مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات

بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ : هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لَهُ : اسْكُنْ . وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ . وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا . فَيَقُولُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ . ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ : هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ هَذَا . وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ مِقْمَعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " . باب: قبر میں سوال ہونا

حدیث نمبر: 4263
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا ، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَهُ قَالَ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبَدُهُ رَسُولُهُ . فَيَقُولُ : صَدَقْتَ . ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ : هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لَهُ : اسْكُنْ . وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ . وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا . فَيَقُولُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ . ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ : هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ هَذَا . وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ مِقْمَعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " . ¤ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هِيلَ عِنْدَ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : ( فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ) . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش کا شکار کیا جائے گا جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ، جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے وہ اس شخص کو بٹھاتا ہے ، اور یہ کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو اگر وہ مردہ مؤمن ہو ، تو وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو فرشتہ کہتا ہے تم نے سچ کہا: ہے پھر اس شخص کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے فرشتہ یہ کہتا ہے اگر تم نے اپنے پروردگار کا کفر کیا ہوتا تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا ، لیکن کیونکہ تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھتے تھے اس لئے تمہارا ٹھکانہ یہ ہو گا پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے وہ شخص اٹھ کر اس کی طرف جانا چاہتا ہے ، تو فرشتہ اس سے کہتا ہے تم پر سکون رہو پھر اس شخص کے لئے اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے ۔ اور اگر وہ مردہ کوئی کافر یا منافق ہو ، تو فرشتہ اس سے کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو کوئی بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو فرشتہ کہتا ہے نہ تمہیں سمجھ آئی نہ تم نے تلاوت کی نہ تم نے ہدایت حاصل کی پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے فرشتہ کہتا ہے اگر تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھتے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا ، لیکن تم نے اپنے پروردگار کا کفر کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کی جگہ یہ ٹھکانہ دے دیا ہے پھر اس کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے پھر فرشتہ اسے گرز کے ذریعے ضرب لگاتا ہے ، اور اس کی چیخ کو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے صرف دو قسم کے گروہ ( انسان اور جنات ) نہیں سن پاتے ہیں “ ۔ بعض حاضرین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب کسی شخص کے سرہانے فرشتہ گرز لے کے کھڑا ہوا ہو گا ، تو آدمی اس وقت تو ہولناکی کا شکار ہو ہی جائے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اللہ تعالیٰ ایمان رکھنے والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے “ ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (3/3) اخرجه الامام البزار فى المسند (872)»