مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ : هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لَهُ : اسْكُنْ . وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ . وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا . فَيَقُولُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ . ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ : هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ هَذَا . وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ مِقْمَعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " . باب: قبر میں سوال ہونا
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا ، فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبَرَهُ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، جَاءَهُ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ ، فَيَقُولُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : أَقُولُ : إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ . فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي النَّارِ قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ أَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنَ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنَ الْجَنَّةِ . فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي . فَيُقَالُ لَهُ : اسْكُنْ . وَأَمَّا الْمُنَافِقُ فَيَقْعُدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلَهُ فَيَقُولُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، أَقُولُ مَا تَقُولُ النَّاسُ . فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ ، هَذَا مَقْعَدُكُ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي الْجَنَّةِ ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ مَقْعَدَكَ مِنَ النَّارِ " قَالَ جَابِرٌ : " فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا " ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ ; الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش کا شکار کیا جائے گا مومن کو جب اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ، جو ہیبت ناک ہوتا ہے وہ اس سے کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ تو وہ مؤمن کہتا ہے یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں فرشتہ اس سے کہتا ہے تم اس ٹھکانے کی طرف دیکھو جو تمہارا جہنم میں ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے نجات عطا کر دی ہے ، اور جو تم نے ٹھکانہ جہنم میں دیکھا تھا اس کی جگہ تمہیں وہ ٹھکانہ عطا کر دیا ہے ، جو تم جنت میں دیکھو گے وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے ، تو وہ مومن کہتا ہے تم لوگ مجھے مہلت دو تاکہ میں یہ خوشخبری اپنے گھر والوں کو سنا دوں تو اس سے کہا: جاتا ہے تم پرسکون رہو جہاں تک منافق کا تعلق ہے ، تو وہ بیٹھتا ہے ، جب اس کے اہل خانہ اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں فرشتہ اس سے دریافت کرتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ تو وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم ، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے ، تو یہ کہا: جاتا ہے : تم نے سمجھ بوجھ حاصل نہیں کی یہ تمہارا وہ ممکنہ ٹھکانہ ہے ، جو جنت میں تمہارا ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ تمہیں جہنم کا ٹھکانہ عطا کر دیا ہے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو وہ شخص ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قبر میں ہر بندے کو اسی طریقے کے مطابق زندہ کیا جاتا ہے ، جس طرح وہ مرا تھا مومن کو اس کے ایمان پر اور منافق کو اس کے نفاق پر ( اٹھایا جاتا ہے ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس صرف کا یہ حصہ منقول ہے : ” ہر بندے کو قبر میں اس پر اٹھایا جاتا ہے ، جس پر وہ مرا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔