حدیث نمبر: 4263
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا ، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَهُ قَالَ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبَدُهُ رَسُولُهُ . فَيَقُولُ : صَدَقْتَ . ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ : هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لَهُ : اسْكُنْ . وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ . وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا . فَيَقُولُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ . ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ : هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ هَذَا . وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ مِقْمَعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " . ¤ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هِيلَ عِنْدَ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : ( فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ) . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش کا شکار کیا جائے گا جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ، جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے وہ اس شخص کو بٹھاتا ہے ، اور یہ کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو اگر وہ مردہ مؤمن ہو ، تو وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو فرشتہ کہتا ہے تم نے سچ کہا: ہے پھر اس شخص کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے فرشتہ یہ کہتا ہے اگر تم نے اپنے پروردگار کا کفر کیا ہوتا تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا ، لیکن کیونکہ تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھتے تھے اس لئے تمہارا ٹھکانہ یہ ہو گا پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے وہ شخص اٹھ کر اس کی طرف جانا چاہتا ہے ، تو فرشتہ اس سے کہتا ہے تم پر سکون رہو پھر اس شخص کے لئے اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے ۔ اور اگر وہ مردہ کوئی کافر یا منافق ہو ، تو فرشتہ اس سے کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو کوئی بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو فرشتہ کہتا ہے نہ تمہیں سمجھ آئی نہ تم نے تلاوت کی نہ تم نے ہدایت حاصل کی پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے فرشتہ کہتا ہے اگر تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھتے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا ، لیکن تم نے اپنے پروردگار کا کفر کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کی جگہ یہ ٹھکانہ دے دیا ہے پھر اس کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے پھر فرشتہ اسے گرز کے ذریعے ضرب لگاتا ہے ، اور اس کی چیخ کو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے صرف دو قسم کے گروہ ( انسان اور جنات ) نہیں سن پاتے ہیں “ ۔ بعض حاضرین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب کسی شخص کے سرہانے فرشتہ گرز لے کے کھڑا ہوا ہو گا ، تو آدمی اس وقت تو ہولناکی کا شکار ہو ہی جائے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اللہ تعالیٰ ایمان رکھنے والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے “ ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے “ ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4264
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا ، فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبَرَهُ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، جَاءَهُ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ ، فَيَقُولُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : أَقُولُ : إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ . فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي النَّارِ قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ أَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنَ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنَ الْجَنَّةِ . فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي . فَيُقَالُ لَهُ : اسْكُنْ . وَأَمَّا الْمُنَافِقُ فَيَقْعُدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلَهُ فَيَقُولُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، أَقُولُ مَا تَقُولُ النَّاسُ . فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ ، هَذَا مَقْعَدُكُ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي الْجَنَّةِ ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ مَقْعَدَكَ مِنَ النَّارِ " قَالَ جَابِرٌ : " فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا " ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ ; الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش کا شکار کیا جائے گا مومن کو جب اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ، جو ہیبت ناک ہوتا ہے وہ اس سے کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ تو وہ مؤمن کہتا ہے یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں فرشتہ اس سے کہتا ہے تم اس ٹھکانے کی طرف دیکھو جو تمہارا جہنم میں ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے نجات عطا کر دی ہے ، اور جو تم نے ٹھکانہ جہنم میں دیکھا تھا اس کی جگہ تمہیں وہ ٹھکانہ عطا کر دیا ہے ، جو تم جنت میں دیکھو گے وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے ، تو وہ مومن کہتا ہے تم لوگ مجھے مہلت دو تاکہ میں یہ خوشخبری اپنے گھر والوں کو سنا دوں تو اس سے کہا: جاتا ہے تم پرسکون رہو جہاں تک منافق کا تعلق ہے ، تو وہ بیٹھتا ہے ، جب اس کے اہل خانہ اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں فرشتہ اس سے دریافت کرتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ تو وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم ، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے ، تو یہ کہا: جاتا ہے : تم نے سمجھ بوجھ حاصل نہیں کی یہ تمہارا وہ ممکنہ ٹھکانہ ہے ، جو جنت میں تمہارا ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ تمہیں جہنم کا ٹھکانہ عطا کر دیا ہے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو وہ شخص ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قبر میں ہر بندے کو اسی طریقے کے مطابق زندہ کیا جاتا ہے ، جس طرح وہ مرا تھا مومن کو اس کے ایمان پر اور منافق کو اس کے نفاق پر ( اٹھایا جاتا ہے ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس صرف کا یہ حصہ منقول ہے : ” ہر بندے کو قبر میں اس پر اٹھایا جاتا ہے ، جس پر وہ مرا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4265
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَتْ يَهُودِيَّةٌ اسْتَطْعَمَتْ عَلَى بَابِي فَقَالَتْ : أَطْعِمُونِي أَعَاذَكُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ ، قَالَتْ : فَلَمْ أَزَلْ أَحْبِسُهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ ؟ قَالَ : " وَمَا تَقُولُ ؟ " قُلْتُ : تَقُولُ : أَعَاذَكُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا فِتْنَةُ الدَّجَّالِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا حَذَّرَهُ أُمَّتَهُ ، وَسَأُحَدِّثُكُمُوهُ بِحَدِيثٍ لَمْ يُحَذِّرْهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ ; إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ . فَأَمَّا فِتْنَةُ الْقَبْرِ فَبِي تُفْتَنُونَ ، وَعَنِّي تُسْأَلُونَ ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ وَلَا مَشْعُوفٍ ، فَيُقَالُ : فِيمَ كُنْتَ ؟ فَيَقُولُ : فِي الْإِسْلَامِ فَيُقَالُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، فَصَدَّقْنَاهُ . فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ . ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا ، [ يَقَالُ ] : وَعَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ جَلَسَ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا ، فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي . فَيُقَالُ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ قَبْلَكُمْ ؟ فَيَقُولُ : سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا . فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا ، فَيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْكَ . ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَيُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا ، عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ثُمَّ يُعَذَّبُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی عورت آئی اس نے میرے دروازے پر کھانے کے لئے کچھ مانگا اس نے کہا: تم لوگ مجھے کھانے کے لئے کچھ دو اللہ تعالیٰ تمہیں دجال کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے محفوظ رکھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس عورت کو روکے رکھا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ یہودی عورت کیا کہتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا کہتی ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو دجال کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے محفوظ رکھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لئے اور دجال کی آزمائش اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک دجال کی آزمائش کا تعلق ہے ، تو ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ، اور میں تم لوگوں کو اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا دوں گا کہ کسی نبی نے اپنی امت کو وہ بات نہیں بتائی وہ یہ کہ وہ ( یعنی دجال ) کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا جہاں تک قبر کی آزمائش کا تعلق ہے ، تو اس میں میرے حوالے سے تمہیں آزمائش کا شکار کیا جائے گا ، اور میرے بارے میں تم لوگوں سے سوال کیا جائے گا اگر کوئی نیک شخص ہو گا ، تو اسے اُس کی قبر میں بٹھایا جائے گا وہ نہ گھبراہٹ کا شکار ہو گا اور نہ پریشان ہو گا اس سے دریافت کیا جائے گا : تم کس اعتقاد کے قائل تھے وہ جواب دے گا اسلام کے اس سے دریافت کیا جائے گا : تمہارے درمیان جو یہ صاحب تھے یہ کون تھے وہ جواب دے گا یہ سیدنا محمد تھے جو اللہ کے رسول تھے وہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح نشانیاں اور ہدایت لے کے آئے تھے ہم نے اس کی تصدیق کی ، تو اس شخص کے لئے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جائے گی وہ جہم کو دیکھے گا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس سے یہ کہا: جائے گا تم اس بات کا جائزہ لو ، جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں محفوظ کر دیا ہے پھر اس شخص کے لئے جنت کی طرف سے ایک کھڑکی کھولی جائے گی وہ جنت کی زیبائش و آرائش کو دیکھے گا ، تو اس سے یہ کہا: جاے گا یہ تمہارا ٹھکانہ ہے اس سے یہ بھی کہا: جائے گا تم یقین پر زندہ رہے اس پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں زندہ کیا جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور اگر وہ کوئی برا شخص ہو ، تو وہ قبر میں بیٹھتا ہے ، تو وہ پریشان حال اور خوف زدہ ہوتا ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا کیا عقیدہ تھا وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہاری طرف جو یہ صاحب تھے یہ کون تھے وہ جواب دیتا ہے میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو میں نے بھی اسی کی مانند بات کہہ دی جس طرح لوگوں نے کہی تھی تو اس شخص کے لئے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ جنت کی زیبائش اور آرائش کو دیکھتا ہے اس سے یہ کہا: جاتا ہے تم اس چیز کو دیکھ لو جسے اللہ تعالیٰ نے تم سے پھیر دیا ہے پھر جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے پھر وہ اس کو دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس سے کہا: جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہو گا تم شک پر زندہ رہے اسی پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر اس شخص کو عذاب دیا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 4266
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، وَكَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ، وَيَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ، اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ . قَالَ : فَتَخْرُجُ فَتَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ فِي السِّقَاءِ ، فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا ، فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، قَالَ : فَيَصْعَدُونَ بِهَا ، فَلَا يَمُرُّونَ [ يَعْنِي : بِهَا ] عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ - بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا - حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُمْ ، فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا ، حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ [ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى . قَالَ : فَتُعَادُ رُوحُهُ ] فِي جَسَدِهِ ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ [ لَهُ ] : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ . فَيَقُولَانِ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ : دِينِيَ الْإِسْلَامُ . فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ اللَّهِ . فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا عَمَلُكَ ؟ فَيَقُولُ : قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ وَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ . فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ . قَالَ : فَيَأْتِيهِ مِنْ رُوحِهَا وَطِيبِهَا ، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ . قَالَ : وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ ، حَسَنُ الثِّيَابِ ، طَيِّبُ الرِّيحِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ . فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ . فَيَقُولُ : رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ ، رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ ; حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي . ¤ وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ ، اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ . فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ فَيَنْزِعُهَا كَمَا يَنْزِعُ السَّفُّودَ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ فَيَأْخُذُهَا ، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ ، وَيَخْرُجَ مِنْهَا كَأَنْتَنِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ . فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذِهِ الرِّيحُ الْخَبِيثَةُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ - بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا - حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى . ثُمَّ تُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ ) فَيُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ ، لَا أَدْرِي . [ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ ، لَا أَدْرِي ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ ، لَا أَدْرِي ] فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَنْ كَذَبَ ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ ، فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسُمُومِهَا ، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ ، مُنْتِنُ الرِّيحِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ . فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَوَجْهُكَ الَّذِي يَجِيءُ بِالشَّرِّ . فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ . فَيَقُولُ : رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، ہم آپ کے اردگرد بیٹھ گئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہمارے سروں پر پرندے موجود ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی جس کے ذریعے آپ زمین کو کرید رہے تھے ۔ آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا : قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو آپ نے یہ بات دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” مومن بندہ جب دنیا سے رخصت ہونے لگتا ہے ، اور آخرت کی طرف جانے لگتا ہے ، تو سفید چہروں کے مالک فرشتے آسمان سے نازل ہو کر اس کی طرف آتے ہیں ان کے چہرے سورج کی مانند ( روشن اور چمک دار ) ہوتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن ہوتا ہے ، جنت کی خوشبو ہوتی ہے ، اور وہ اس شخص کے پاس اتنی دور تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے پھر ملک الموت علیہ السلام آتے ہیں اور اس شخص کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : اے مطمئن جان تم نکل کر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تو وہ جان یوں نکلتی ہے ، ، جس طرح مشکیزے میں سے کوئی قطرہ ٹپکتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں جب اسے پکڑ لیتے ہیں تو پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی اسے نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ کر اسے اس کفن میں رکھ دیتے ہیں اور اس خوشبو کو لگا دیتے ہیں وہ اس جسم میں سے یوں نکلتی ہے ، جس طرح روئے زمین پر موجود مشک کی سب سے عمدہ خوشبو ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرشتے اس جان کو لے کر اوپر جاتے ہیں وہ فرشتے اس روح کو لے کر فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے یہ کہتے ہیں : یہ کس کی پاکیزہ روح ہے ، تو وہ فرشتے یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے وہ اس شخص کا سب سے اچھا نام لیتے ہیں دنیا میں جس سب سے اچھے نام کے ذریعے اسے بلایا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے لے کے آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں وہ دروازہ کھولنے کے لئے کہتے ہیں : پھر ہر آسمان سے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس روح کے ساتھ جاتے ہیں یہاں تک کہ اسے ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے میرے بندے کی تحریر کو علیین میں نوٹ کر لو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ ہم نے اس سے انہیں پیدا کیا ہے ، اور اسی میں ہم انہیں لوٹا دیں گے اور اس میں سے ہی ہم انہیں دوبارہ نکالیں گے تو اس شخص کی روح کو اس شخص کے جسم کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں وہ اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا پروردگار کون ہے وہ جواب دیتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے دونوں فرشتے دریافت کرتے ہیں تمہارا دین کیا ہے وہ جواب دیتا ہے میرا دین اسلام ہے دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں وہ صاحب کون ہیں ، جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے تھے وہ جواب دیتا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں تو دونوں فرشتے اس سے یہ کہتے ہیں : تمہارا عمل کیا ہے وہ جواب دیتا ہے میں نے اللہ کی کتاب کو پڑھا اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا: ہے تم اس کے لئے جنت کا بچھونا بچھا دو اسے جنت کا لباس پہنا دو اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول دو تو جنت کی ٹھنڈک اور خوشبو اس شخص کی طرف آتی ہے ، اور اس شخص کی قبر کو حد نگاہ تک وسیع کر دیا جاتا ہے پھر ایک شخص اس کے پاس آتا ہے ، جس کا چہرہ خوبصورت ہوتا ہے لباس شاندار ہوتا ہے خوشبو پاکیزہ ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے تم اس چیز کی خوشخبری حاصل کرو جو تمہیں خوش کر دے گی یہ وہ دن ہے ، جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا وہ بندہ کہتا ہے تم کون ہو تمہارا چہرہ بہت خوبصورت ہے ، اور تم بھلائی لے کے آئے ہو ، تو وہ دوسرا شخص کہتا ہے میں تمہارا نیک عمل ہوں تو وہ بندہ کہتا ہے اے میرے پروردگار ! قیامت قائم کر دے اے میرے پروردگار ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور اپنے مال کی طرف لوٹ جاؤں ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) جب کافر شخص کا دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف جانے کا وقت آتا ہے ، تو سیاہ چہروں کے مالک فرشتے نازل ہوتے ہیں ان کے ساتھ کھردرے کپڑے ہوتے ہیں وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : اے خبیث روح تم نکل کر پروردگار کی ناراضگی ، اور غضب کی طرف جاؤ تو وہ روح اس شخص کے جسم میں پھیل جاتی ہے ، تو ملک الموت یوں اسے الگ کرتا ہے ، جس طرح تر روئی میں سے کانٹا الگ کیا جاتا ہے ، جب ملک الموت اسے پکڑ لیتا ہے ، تو اسے پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی نہیں چھوڑتا ہے اسے فورا اس کھردرے کپڑے میں ڈال دیتا ہے وہ روح اس جسم سے یوں نکلتی ہے کہ جیسے انتہائی بدبودار مردار ہو جو زمین پر پایا گیا ہو فرشتے اسے لے کر اوپر کی طرف جاتے ہیں وہ فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے دریافت کرتے ہیں یہ خبیث بدبو کس چیز کی ہے وہ جواب دیتے ہیں فلاں بن فلاں کی ہے وہ اس کے سب سے برے نام کے ذریعے ذکر کرتے ہیں جو دنیا میں اس کا لیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا کے پاس پہنچتے ہیں اس کے لئے دروازہ کھولنے کا کہا: جاتا ہے ، تو دروازہ نہیں کھلتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” ان لوگوں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہوتا “ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم اس کی تحریر کو سجین میں سب سے نیچے والی زمین نوٹ کر لو پھر اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے ، تو اس کی مثال یوں ہے جیسے وہ آسمان سے گرا ہو ، اور پرندوں نے اسے اُچک لیا ہو ، یا ہواؤں نے اُڑا کر دور دراز کے مقام پر پہنچا دیا “ ۔ پھر اس شخص کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے ، پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں وہ دونوں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا پروردگار کون ہے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ہے دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا دین کیا ہے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں یہ صاحب کون ہیں ، جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے تھے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے اس نے جھوٹ بولا: ہے اس کے لئے جہنم کا بچھونا بچھا دو اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو تاکہ اس کی تپش اور اس کی گرمی اس کی طرف آئے اس شخص کی قبر اس کے لئے تنگ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں پھر ایک شخص اس کے پاس آتا ہے ، جس کا چہرہ انتہائی قبیح ہوتا ہے ، اور لباس قبیح ہوتا ہے ، اور بو بدبودار ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے تم اس بات کی اطلاع قبول کرو جو تمہیں بری لگے گی یہ وہ دن ہے ، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ مردہ دریافت کرتا ہے تم کون ہو ؟ تم ایک برائی لے کے آئے ہو ، تو وہ جواب دیتا ہے میں تمہارا خبیث عمل ہوں تو مردہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! تو قیامت قائم نہ کرنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔