مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ فَانْتَهَى إِلَى عَقَبَةٍ ، فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى : لَا يَأْخُذَنَّ الْعَقَبَةَ أَحَدٌ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ يَأْخُذُهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ ، وَحُذَيْفَةُ يَقُودُهُ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَسُوقُهُ ، فَأَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمِينَ عَلَى الرَّوَاحِلِ حَتَّى غَشُّوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ عَمَّارٌ فَضَرَبَ وَجُوهَ الرَّوَاحِلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحُذَيْفَةَ : " قُدْ قُدْ " فَلَحِقَهُ عَمَّارٌ ، فَقَالَ : سُقْ سُقْ ، حَتَّى أَنَاخَ ، فَقَالَ لِعَمَّارٍ : هَلْ تَعْرِفُ الْقَوْمَ ؟ فَقَالَ : لَا ، كَانُوا مُتَلَثِّمِينَ ، وَقَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ . قَالَ : أَتَدْرِي مَا أَرَادُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَطْرَحُوهُ مِنَ الْعَقَبَةِ . فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ نَزَعَ بَيْنَ عَمَّارٍ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْهُمْ شَيْءٌ مَا ، يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ الَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَمْكُرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَرَى أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ . قَالَ : فَإِنْ كُنْتُ فِيهِمْ فَكَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ ، وَيَشْهَدُ عَمَّارٌ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ حِزْبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے ، آپ ایک گھاٹی کے پاس پہنچے ، تو آپ نے اعلان کرنے والے شخص کو حکم دیا ، تو اُس نے یہ اعلان کیا : کوئی شخص گھاٹی کی طرف نہ جائے ، کیونکہ اللہ کے رسول وہاں جانے لگے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ کے جانور کے آگے چل رہے تھے ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ، اسی دوران کچھ لوگ سواریوں پر سوار ہو کر آئے ، انہوں نے دھاٹے باندھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ مڑے اور اُنہوں نے اُن لوگوں کی سواریوں کے منہ پر مارا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ سے کہا: تم ( جانور کو لے کر ) چلتے رہو ! چلتے رہو ! پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آپ کے پاس پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ( جانور کو ہانکتے رہو ! ہانکتے رہو ! یہاں تک کہ ( ذرا آگے جا کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کو بٹھا لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم ان لوگوں کو پہچانتے ہو ؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی نہیں ! اُنہوں نے منہ پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا ، البتہ میں اُن میں سے زیادہ تر کی سواریوں کو پہچان لوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ لوگ اللہ کے رسول کے بارے میں کیا ارادہ رکھتے تھے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو لے جائیں گے اور انہیں گھاٹی سے نیچے گرا دیں گے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) بعد میں ، ایک مرتبہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور اُن لوگوں میں سے ، ایک شخص کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ، جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتی ہے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ گھنٹی والے افراد کتنے تھے ؟ جنہوں نے اللہ کے رسول کو دھوکہ دینے کا ارادہ کیا تھا ، تو اس شخص نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چودہ افراد تھے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم بھی اُن میں ہو ، تو وہ پندرہ ہوں گے ۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کے 12 افراد دنیاوی زندگی میں ، اور قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا گروہ شمار ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔