حدیث نمبر: 4256
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ يَهُودِيَّةٌ ، فَحَدَّثَتْنِي عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهَا فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَإِنَّهُ لَوْ نَجَا أَحَدٌ نَجَا مِنْهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَزِدْ عَلَى ضَمَّةٍ " . ¤ قُلْتُ : ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی عورت میرے ہاں آئی اور میرے ساتھ قبر کے عذاب کے بارے میں بات چیت کرنے لگی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس عورت کے بیان کے بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اگر کسی کو اس سے نجات ملنی ہوتی تو سعد بن معاذ کو اس سے نجات مل جاتی ، لیکن اس نے بھینچنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے ، جو قبر کے عذاب سے متعلق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4256
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف