حدیث نمبر: 4253
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ قَعَدَ عَلَى شِقَّتِهِ ، فَجَعَلَ يُرَدِّدُ بَصَرَهُ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يُضْغَطُ فِيهِ الْمُؤْمِنُ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ ، وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الزُّهْدِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کنارے پر بیٹھ گئے آپ اس میں نگاہ ڈالنے لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اس میں مومن کو یوں بھینچا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی حمائل ( گردن اور سینہ ) زائل ہو جاتے ہیں ، اور یہ کافر کے لئے آگ سے بھر جاتی ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ حدیث آگے چل کر زہد سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک رادی محمد بن جابر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک رادی محمد بن جابر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4254
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ كَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ ، ثُمَّ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ سَبَّحْتَ ؟ قَالَ : " لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ قَالَ الْحُسَيْنِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ غَيْرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا: لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ خاصی دیر تک سبحان اللہ پڑھا پھر آپ نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی تکبیر کہی پھر لوگوں نے دریافت کیا : آپ نے سبحان اللہ کیوں کہا: تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نیک شخص کے لئے قبر تنگ ہو گئی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کشادہ کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمود بن محمد بن عبدالرحمن بن عمرو بن جموح ہے حسینی فرماتے ہیں اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے ان کے علاوہ کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمود بن محمد بن عبدالرحمن بن عمرو بن جموح ہے حسینی فرماتے ہیں اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے ان کے علاوہ کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4255
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً ، لَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجٍ مِنْهَا لَنَجَا مِنْهَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِنْسَانٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَكِلَا الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” قبر بھینچتی ہے اگر کسی شخص کو اس سے نجات ملنی ہوتی ہے ، تو سعد بن معاذ کو اس سے نجات مل جاتی“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نافع کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ، اور نافع کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ۔ ان دونوں اسناد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نافع کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ، اور نافع کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ۔ ان دونوں اسناد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4256
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ يَهُودِيَّةٌ ، فَحَدَّثَتْنِي عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهَا فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَإِنَّهُ لَوْ نَجَا أَحَدٌ نَجَا مِنْهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَزِدْ عَلَى ضَمَّةٍ " . ¤ قُلْتُ : ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی عورت میرے ہاں آئی اور میرے ساتھ قبر کے عذاب کے بارے میں بات چیت کرنے لگی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس عورت کے بیان کے بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اگر کسی کو اس سے نجات ملنی ہوتی تو سعد بن معاذ کو اس سے نجات مل جاتی ، لیکن اس نے بھینچنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے ، جو قبر کے عذاب سے متعلق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے ، جو قبر کے عذاب سے متعلق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4257
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى قَبْرِهِ قَالَ : " لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ أَوْ مَسْأَلَةِ الْقَبْرِ لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ، ثُمَّ أُرْخِيَ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوَسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : ” اگر کسی شخص کو قبر کی آزمائش سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) قبر کے سوالات سے نجات ملنا ہوتی تو سعد بن معاذ کو مل جاتی اسے پہلے بھینچا گیا اور پھر اسے چھوڑ دیا گیا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4258
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهْتَمًّا شَدِيدَ الْحُزْنِ ، فَجَعَلْنَا لَا نُكَلِّمُهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ، فَإِذَا هُوَ لَمْ يَفْرَغْ مِنْ لَحْدِهِ ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ ، فَحَدَّثَ نَفْسَهُ هُنَيْهَةً ، وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ فَرَغَ مِنَ الْقَبْرِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَرَأَيْتُهُ يَزْدَادُ حُزْنُهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ فَرَغَ فَخَرَجَ ، فَرَأَيْتُهُ سُرِّيَ عَنْهُ وَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ مُهْتَمًّا حَزِينًا فَلَمْ نَسْتَطِعْ أَنْ نُكَلِّمَكَ ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ سُرِّيَ عَنْكَ فَلِمَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " كُنْتُ أَذْكُرُ ضِيقَ الْقَبْرِ ، وَغَمَّهُ وَضَعْفَ زَيْنَبَ ، فَكَانَ ذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيَّ ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهَا فَفَعَلَ ، وَلَقَدْ ضَغَطَهَا ضَغْطَةً سَمِعَهَا مَنْ بَيْنِ الْخَافِقَيْنِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ انتہائی غمگین تھے ہم نے آپ کے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ آپ قبر کے پاس تشریف لے آئے ، تو ابھی وہاں لحد تیار نہیں ہوئی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر اپنی سوچ میں رہے پھر آپ آسمان کی طرف دیکھنے لگے جب قبر تیار ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اترے میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کے غم میں اضافہ ہو گیا تھا پھر جب آپ فارغ ہوئے اور اس سے باہر آئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی پریشانی ختم ہو گئی اور آپ مسکرا رہے تھے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ پریشان اور غمگین تھے ہم آپ کے ساتھ بات نہیں کر سکے پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قبر کی تنگی ، اور اس کے غم کو اور زینب کی کمزوری کے بارے میں سوچ رہا تھا ، تو یہ چیز مجھ پر گراں گزر رہی تھی پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ زینب کو تخفیف عطا کرے تو اللہ تعالی نے ایسا کیا البتہ قبر نے اسے ایک مرتبہ بھینچا اور اس کی آواز کو زمین و آسمان کے درمیان ہر چیز نے سنا صرف جنات اور انسانوں نے نہیں سنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4259
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنْ صَبِيًّا دُفِنَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَفْلَتَ أَحَدٌ مِنْ ضَمَّةِ الْقَبْرِ لَأَفْلَتَ هَذَا الصَّبِيُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بچے کو دفن کر دیا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قبر کے بھینچنے سے اگر کسی کو نجات ملنی ہوتی تو اس بچے کو مل جاتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4260
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى صَبِيٍّ أَوْ صَبِيَّةٍ فَقَالَ : " لَوْ كَانَ أَحَدٌ نَجَا مِنْ ضَمَّةِ الْقَبْرِ لَنَجَا هَذَا الصَّبِيُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے یا شاید ایک بچی کی نماز جنازہ ادا کی آپ نے ارشاد فرمایا : ” اگر کسی کو قبر کے بھینچنے سے نجات ملنی ہوتی تو اس بچے کو نجات مل جاتی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4261
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : أَتَيْنَا صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ ، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنْ كُنْتُ لَأَرَى لَوْ أَنَّ أَحَدًا أُعْفِيَ مِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ لَعُفِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : ہم سیدہ صفیہ بنت ابوعبید رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، تو انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو قبر کے بھینچنے سے معافی ملنی ہوتی تو سعد بن معاذ اس سے بچ جاتا ، لیکن اسے بھی بھینچا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔