مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي ضَغْطَةِ الْقَبْرِ . باب: قبر کا بھینچنا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ كَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ ، ثُمَّ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ سَبَّحْتَ ؟ قَالَ : " لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ قَالَ الْحُسَيْنِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ غَيْرَهُ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا: لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ خاصی دیر تک سبحان اللہ پڑھا پھر آپ نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی تکبیر کہی پھر لوگوں نے دریافت کیا : آپ نے سبحان اللہ کیوں کہا: تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نیک شخص کے لئے قبر تنگ ہو گئی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کشادہ کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمود بن محمد بن عبدالرحمن بن عمرو بن جموح ہے حسینی فرماتے ہیں اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے ان کے علاوہ کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔