مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي ضَغْطَةِ الْقَبْرِ . باب: قبر کا بھینچنا
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ قَعَدَ عَلَى شِقَّتِهِ ، فَجَعَلَ يُرَدِّدُ بَصَرَهُ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يُضْغَطُ فِيهِ الْمُؤْمِنُ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ ، وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الزُّهْدِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کنارے پر بیٹھ گئے آپ اس میں نگاہ ڈالنے لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اس میں مومن کو یوں بھینچا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی حمائل ( گردن اور سینہ ) زائل ہو جاتے ہیں ، اور یہ کافر کے لئے آگ سے بھر جاتی ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ حدیث آگے چل کر زہد سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک رادی محمد بن جابر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔