حدیث نمبر: 4252
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ ، فَجَلَسَ إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَقَالَ : " مَا يَأْتِي عَلَى هَذَا الْقَبْرِ مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُنَادِي بِصَوْتٍ ذَلْقٍ طَلْقِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ نَسِيتَنِي ؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْوَحْدَةِ ، وَبَيْتُ الْغُرْبَةِ ، وَبَيْتُ الْوَحْشَةِ ، وَبَيْتُ الدُّودِ ، وَبَيْتُ الضِّيقِ ، إِلَّا مَنْ وَسَّعَنِي اللَّهُ عَلَيْهِ ؟ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقَبْرُ إِمَّا رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبِ بْنِ سُوَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : اس قبر پر جو بھی دن آتا ہے اس میں یہ بلند آواز میں پکار کر یہ کہتی ہے اے ابن آدم تم مجھے کیسے بھول گئے کیا تم یہ نہیں جانتے کہ میں تنہائی کا گھر ہوں میں غریب الوطنی کا گھر ہوں میں وحشت کا گھر ہوں اور کیڑوں مکوڑوں کا گھر ہوں تنگی کا گھر ہوں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس کے لئے اللہ تعالیٰ مجھے کشادہ کر دے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے ، یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4252
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف