مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ بَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَوَدِيعَةَ بْنِ ثَابِتٍ كَلَامٌ ، فَقَالَ وَدِيعَةُ لِعَمَّارٍ : إِنَّمَا أَنْتَ عَبْدُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، مَا أَعْتَقَكَ بَعْدُ . قَالَ عَمَّارٌ : كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ ؟ قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ . قَالَ : أَخْبِرْنِي عَنْ عِلْمِكَ ؟ فَسَكَتَ وَدِيعَةُ . قَالَ مَنْ حَضَرَهُ : أَخْبِرْهُ عَمَّا سَأَلَكَ - وَإِنَّمَا أَرَادَ عَمَّارٌ أَنْ يُخْبِرَهُ أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ - قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَقَالَ عَمَّارٌ : فَإِنْ كُنْتُ فِيهِمْ ، فَإِنَّهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ . فَقَالَ وَدِيعَةُ : مَهْلًا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، أُنْشِدُكَ اللَّهَ أَنْ تَفْضَحَنِي الْيَوْمَ . فَقَالَ عَمَّارٌ : وَاللَّهِ مَا سَمَّيْتُ أَحَدًا وَلَا أُسَمِّيهِ أَبَدًا ، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ الْخَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْهُمْ حِزْبُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ - وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ودیعہ بن ثابت کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تو ودیعہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ابوحذیفہ بن مغیرہ کے غلام ہیں ، اور اس نے آپ کو آزاد نہیں کیا تھا ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عقبہ والے افراد کتنے تھے ؟ ( یعنی وہ لوگ ، جنہوں نے ایک گھاٹی میں ، اللہ کے رسول کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ، کیونکہ ودیعہ بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ) ودیعہ نے جواب دیا : اللہ بہتر جانتا ہے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے اپنے علم کے حوالے سے جواب دو ! تو ودیعہ خاموش رہا ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے یہ کہا: یہ ( یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ) تم سے جس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ، تم انہیں بتا دو ! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا ارادہ یہ تھا کہ ودیعہ انہیں یہ بتائے گا کہ وہ بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ، ودیعہ نے کہا: ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ وہ چودہ افراد تھے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم بھی اُن میں ہوتے ، تو وہ پندرہ افراد ہوتے ، تو ودیعہ بولا: اے ابویقظان ! آپ ٹھہر جائیں ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ، آج آپ نے مجھے شرمندہ کر دیا ہے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی میں کبھی کسی کا نام لوں گا ، لیکن میں یہ گواہی دیتا ہوں ، کہ اُن 15 افراد میں سے ، 12 افراد ایسے ہیں ، جو دنیاوی زندگی میں اور اُس دن جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔ ( وہ 12 افراد ) اللہ اور اُس کے رسول کا گروہ ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، جو ضعیف ہے ۔