مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَ الْوَادِي ، وَأَخَذَ النَّاسُ الْعَقَبَةَ ، فَجَاءَ سَبْعَةُ نَفَرٍ مُتَلَثِّمُونَ ، فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ حُذَيْفَةُ الْقَائِدَ وَعَمَّارٌ السَّائِقَ - قَالَ : " شُدُّوا مَا بَيْنَكُمَا " فَلَمْ يَصْنَعُوا شَيْئًا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، هَلْ تَدْرِي مَنِ الْقَوْمُ ؟ " قُلْتُ : مَا أَعْرِفُ مِنْهُمْ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ، فَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ فُلَانٌ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، كَانَ يَتَشَيَّعُ وَيُدَلِّسُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیبی حصے میں آئے اور لوگ گھاٹی کی طرف چلے گئے ، اسی دوران سات افراد آئے ، جو دھاٹے باندھے ہوئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا ، تو اُس وقت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ جانور کو آگے لے کر چل رہے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اُسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے درمیان کی چیز کا خیال رکھنا ، اُن لوگوں نے کچھ بھی نہیں کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کی طرف دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! کیا تم جانتے ہو ؟ یہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے عرض کی : میں ان میں سے صرف سرخ اونٹ والے شخص کو پہچانتا ہوں ، مجھے پتا ہے کہ یہ فلاں ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث منقول ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی تلید بن سلیمان ہے ، جیسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس میں تشیع پایا جاتا تھا اور یہ تدلیس کرتا تھا ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔