حدیث نمبر: 422
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقُودُ ، وَعَمَّارٌ يَسُوقُ - أَوْ عَمَّارٌ يَقُودُ وَأَنَا أَسُوقُ بِهِ - إِذِ اسْتَقْبَلَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مُتَلَثِّمِينَ . قَالَ : " هَؤُلَاءِ الْمُنَافِقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَبْعَثُ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَتَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ : " أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ ، وَعَسَى تُكْفِهُمُ الدُّبَيْلَةُ " . قُلْنَا : وَمَا الدُّبَيْلَةُ ؟ قَالَ : شِهَابٌ مِنْ نَارٍ يُوضَعُ عَلَى نِيَاطِ قَلْبِ أَحَدِهِمْ فَيَقْتُلُهُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑے ہوئے تھا ، اور اُسے لے کے چل رہا تھا جبکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اُسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اُسے لے کر چل رہے تھے ، اور میں اُسے پیچھے سے ہانک رہا تھا ، اسی دوران ہمارے سامنے 12 افراد آئے ، جنہوں نے دھاٹے باندھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ قیامت کے دن تک کے لئے منافق ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان میں سے ہر ایک کی طرف کسی شخص کو بھیج کر انہیں قتل کیوں نہیں کروا دیتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ لوگ یہ بات کریں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں عنقریب ” دبیلہ “ ان کے لئے کفایت کر جائے گا ، ہم نے عرض کی : ” دبیلہ “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آگ کا انگارہ ، جو ان میں سے کسی ایک کے دل پر رکھا جائے گا اور اسے قتل کر دے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس ( روایت ) کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلمہ ہے ، ایک جماعت نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 422
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8100»