مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ “ والوں کی نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ غُلَامٌ شَابٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ كَمَا يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ . قَالَ : فَقَبِلَ ثُمَّ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ لِأَصْحَابِهِ ] : " صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ( وہ یہودی تھا ) وہ بیمار ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کرنے کے لئے اس کے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اس شخص نے اپنے والد کی طرف دیکھنا شروع کیا ، تو اس کے والد نے اس سے کہا: تم اس طرح کہہ دو جس طرح سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم سے فرما رہے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس شخص نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر انتقال کر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اپنے بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔