مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ “ والوں کی نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بِئْرٍ فِيهَا أَسْوَدُ مَيِّتٌ ، قَالَ : فَأَشْرَفَ فِي الْبِئْرِ ، فَإِذَا هُوَ مُلْقًى فِي الْبِئْرِ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَهُ مُلْقًى فِي الْبِئْرِ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ جَافِيَ الدِّينِ ، يُصَلِّي أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا لَا يُصَلِّي ، قَالَ : " وَيْحَكُمْ أَخْرِجُوهُ " ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغُسِّلَ ، وَكُفِّنَ ، وَقَالَ : " احْمِلُوهُ " ، وَقَالَ : " إِنْ كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ لَتَسْبِقُنَا " ، قَالَ : وَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَطَاءٌ فِيهِ كَلَامٌ ، وَرَاوِيهِ لَا يُعْرَفُ . ¤عطاء بن سائب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک کنویں کے پاس سے ہوا جس میں ایک سیام فام شخص کی لاش موجود تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنویں میں جھانکا تو آپ کو کنویں میں وہ شخص نظر آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے یہ کنویں میں کیوں پڑا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص دین سے لاتعلق تھا کبھی نماز پڑھ لیتا تھا کبھی نہیں پڑھتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم لوگ اسے باہر نکالو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس شخص کو غسل بھی دیا گیا کفن بھی دیا گیا آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی میت اٹھاؤ آپ نے فرمایا : فرشتے ہم سے سبقت لے جا رہے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس سے روایت کرنے والا شخص بھی معروف نہیں ہے ۔