حدیث نمبر: 4219
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى : " مَنْ كَانَ مُضْعِفًا مَعَنَا فَلْيَرْجِعْ " ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَرَاجَعُونَ حَتَّى بَلَغُوا مَضِيقًا مِنَ الطَّرِيقِ ، فَوَقَصَتْ بِرَجُلٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَنَادَى بِالْمُسْلِمِينَ فَأَتَاهُ النَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] : " مَا شَأْنُكُمْ أَوْ مَا حَبَسَكُمْ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُلَانٌ أَتَى الْمَضِيِقَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ ، فَدَعَوْهُ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَأَبَى ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ، أَلَا وَإِنَّ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ حَرَامٌ ، وَكُلُّ [ سَبُعٍ ] ذِي نَابٍ ، أَوْ قَالَ : ظُفُرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا اس نے یہ اعلان کیا ہمارے ساتھ جو شخص کمزور جانور والا ہو اسے واپس چلے جانا چاہیے تو لوگوں نے واپس جانا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ راستے میں ایک تنگ جگہ کے پاس پہنچے تو ایک شخص کی اونٹنی نے اسے نیچے گرا دیا جس کے نتیجے میں وہ شخص مر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی تو بلند آواز میں مسلمانوں کو پکارا تو کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) کس چیز نے تمہیں روک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص تنگ جگہ پر پہنچا تھا اس کی اونٹنی نے اسے گرا دیا جس کے نتیجے میں وہ شخص مر گیا لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ نے یہ بات قبول نہیں کی آپ نے منادی کو حکم دیا اس نے بلند آواز میں یہ اعلان کیا : جنت کسی نافرمان کے لئے حلال نہیں ہے خبردار پالتو گدھے حرام ہیں اور ہر نوکیلے دانت والے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہر ناخن والے درندے ( کا گوشت کا کھانا ) حرام ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4219
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7792)»