مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى أَهْلِ الْمَعَاصِي . باب: گناہ گاروں کی نماز جنازہ ادا کرنا
حدیث نمبر: 4220
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ رَجْلَةٍ لَهُ ، فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ ، فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا صَنَعَ فَقَالَ : " أَوَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ " وَقَالَ : " لَوْ أَعْلَمْتَنَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے مرنے کے قریب اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا اس کے ورثاء جن کا تعلق دیہات سے تھا وہ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شخص کے اس عمل کے بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اس نے ایسا کیا تھا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے ہمیں پہلے بتا دیا ہوتا تو ہم نے اس کی نماز جنازہ نہیں کرنی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔