عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ فَأُتِي - النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " انْظُرُوا إِلَى دَاخِلَةِ إِزَارِهِ " ، فَأُصِيبَ دِينَارٌ أَوْ دِينَارَانِ ، فَقَالَ : " كَيَّتَانِ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ [ فَقَالَ رَجُلٌ : إِلَيَّ قَضَائُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي فِي الزُّهْدِ وَغَيْرِهِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس کے لئے کفن نہیں ملا اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کے تہبند کے اندرونی حصے کا جائزہ لو ( جب ایسا کیا گیا ) تو وہاں سے ایک دینار یا دو دینار مل گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگوانے والی دو چیزیں ہیں تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ آگے چل کر زہد سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔