حدیث نمبر: 4198
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلُ ، وَهُوَ بِتَبُوكَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اشْهَدْ جِنَازَةَ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلَ جِبْرِيلُ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فَوَضَعَ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى الْجِبَالِ فَتَوَاضَعَتْ ، وَوَضَعَ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى الْأَرَضِينَ فَتَوَاضَعْنَ ، حَتَّى نَظَرَ إِلَى مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ وَالْمَلَائِكَةُ ، فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، بِمَا بَلَغَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ ؟ " . قَالَ : بِقِرَاءَةِ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) قَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَرَاكِبًا وَمَاشِيًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ عُمَرَ ; قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : يُقَالُ إِنَّهُ سَرَقَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قُلْتُ : لَيْسَ هَذَا بِضَعْفٍ فِي الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَيْسَ فِيهِ عِلَّةٌ غَيْرَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تبوک میں موجود تھے انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ معاویہ بن معاویہ مزنی کے جنازے میں شریک ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے سیدنا جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے ہمراہ نکلے تھے انہوں نے اپنا دایاں پاؤں مارا تو وہ جھک گئے انہوں نے اپنا بایاں پاؤں زمین پر مارا تو وہ جھک گئی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کو دیکھ سکتے تھے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کی نماز جنازہ ادا کی سیدنا جبرائیل اور فرشتوں نے بھی ادا کی جب یہ لوگ اس سے فارغ ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! معاویہ بن معاویہ مزنی کو یہ مقام کس وجہ سے نصیب ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سورت اخلاص کھڑے ہو کر بیٹھ کر سوار ہو کر پیدل چلتے ہوئے ( ہر حال میں پڑھنے کی وجہ سے یہ مقام ملا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نوح بن عمر ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے اس نے یہ حدیث چوری کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ چیز حدیث میں کمزوری کا باعث نہیں بن سکتی اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت میں اس کے علاوہ اور کوئی علت نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4198
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف