حدیث نمبر: 4197
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيُّ ، فَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَضَرَبَ بِجَنَاحِهِ الْأَرْضَ ، فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَصَعْصَعَتْ ، [ قَالَ ] : فَرَفَعَ سَرِيرَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ ، وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فِي كُلِّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلِكٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جِبْرِيلُ ، بِمَا نَالَ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ مِنَ اللَّهِ ؟ قَالَ : بِحُبِّهِ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ، وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا ذَاهِبًا وَجَائِيًا ، وَقَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ ، وَحَدِيثُهُ مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے بتایا : معاویہ بن معاویہ لیثی کا انتقال ہو گیا ہے کیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنا پسند کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے اپنا پر زمین پر مارا تو راستے میں موجود ہر درخت اور ہر ٹیلہ ہٹ گیا راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے مرحوم کی چارپائی کو اٹھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے ، اور آپ نے تکبیر کہی آپ کے پیچھے دو صفیں فرشتوں کی تھیں ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ مقام کس وجہ سے ملا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے سورت اخلاص سے محبت کرنے کی وجہ سے اور اس کے جاتے ہوئے آتے ہوئے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے ہر حال میں اس ( سورت اخلاص ) کو تلاوت کرنے کی وجہ سے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن العلاء ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محبوب بن ہلال ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث منکر ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4197
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (428/19)»