حدیث نمبر: 4199
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ غَازِيًا بِتَبُوكَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ لَكَ فِي جِنَازَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ " ، فَقَالَ جِبْرِيلُ بِيَدِهِ هَكَذَا ، فَفَرَّجَ لَهُ عَنِ الْجَبَلِ وَالْآكَامِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي وَمَعَهُ جِبْرِيلُ ، وَمَعَ جِبْرِيلَ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، فَصَلَّى عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ : " بِمَ بَلَغَ مُعَاوِيَةُ هَذَا ؟ " ، قَالَ : بِكَثْرَةِ قِرَاءَةِ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ، كَانَ يَقْرَؤُهَا قَائِمًا وَقَاعِدًا وَرَاقِدًا ، فَبِهَذَا بَلَغَ مَا بَلَغَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : کیا آپ معاویہ بن معاویہ مزنی کے جنازے میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا ، تو سب پہاڑ اور ٹیلے ہٹ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے ، اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ کی نماز جنازہ ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : معاویہ اس مقام تک کس وجہ سے پہنچا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سورت اخلاص کی بکثرت تلاوت کی وجہ سے وہ کھڑے ہو کر بیٹھ کر لیٹ کر اس کو پڑھتا رہتا تھا ، تو اس وجہ سے اس مقام تک پہنچا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن ابوسہل ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4199
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (429/19)»