مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کی نماز جنازہ ایک جماعت ادا کرتی ہے
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ أَنَّهُ خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ ، فَلَمَّا وُضِعَ السَّرِيرُ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَأَحْسِنُوا شَفَاعَتَكُمْ ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ : حَدَّثَنِي سُلَيْكٌ - وَكَانَ أَخَا مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ شُفِّعُوا فِي أَخِيهِمْ ، وَالْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مِائَةٍ ، وَالْعُصْبَةُ عَشَرَةٌ إِلَى أَرْبَعِينَ ، وَالنَّفَرُ ثَلَاثَةٌ إِلَى عَشَرَةٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ابوملیح ہذلی بیان کرتے ہیں : وہ ایک جنازے میں نکلے جب چار پائی کو رکھ دیا گیا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : صفیں سیدھی کر لو اور اچھے طریقے سے سفارش کرنا پھر ابوملیح نے یہ بات بیان کی سیدنا سلیک رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین سیدہ ام میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں انہوں نے مجھے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی نماز جنازہ ایک سو افراد ادا کر لیں تو ان کے بھائی کے بارے میں ان لوگوں کی شفاعت قبول ہوتی ہے ، اور امت چالیس سے لے کے ایک سو افراد تک ہوتی ہے ، اور عصبہ دس افراد سے لے چالیس افراد تک ہوتا ہے ، اور نفرتین سے لے کے دس افراد تک ہوتے ہیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔