مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ . باب: قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَدُفِنَ لَيْلًا ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخْبِرَ فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ " ، فَانْطَلَقُوا فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا " ، فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَخِي مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ ، قَالَ : " فَأَيْنَ قَبْرُهُ ؟ " فَأَخْبَرَهُ ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ الْأَنْصَارِيِّ فَصَلَّى . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام شخص مسجد میں صفائی کیا کرتا تھا اس کا انتقال ہو گیا اسے رات میں دفن کر دیا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اس کی قبر کی طرف چلو وہ لوگ چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ قبریں اپنے متعلقہ افراد کے لئے تاریکی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں تو میرے ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں نورانی کر دیتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لائے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا بھائی فوت ہو گیا ، لیکن آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی قبر کہاں ہے ؟ اس نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس انصاری کے ساتھ تشریف لے گئے اور آپ نے اس کی بھی نماز جنازہ ادا کی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔