مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ . باب: نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ كَبَّرَ أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ ، احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ ، وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانَهُ ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ " ، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا یزید بن رکانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ ادا کرتے تھے تو چار تکبیریں کہتے تھے ، اور یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہے یہ تیری رحمت کا محتاج ہے ، اور تو اس کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے اگر یہ اچھائی کرنے والا تھا ، تو تو اس کی اچھائی میں اضافہ کر دے اور اگر یہ برائی کرنے والا تھا ، تو تو اس سے درگزر فرما لے “ ۔ پھر جو اللہ کو منظور ہوتا تھا آپ وہ دعا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔