حدیث نمبر: 4166
وَعَنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ عَلَى الْمَيِّتِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَحْيَائِنَا وَأَمْوَاتِنَا ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا ، اللَّهُمَّ هَذَا عَبَدُكَ فَلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ ، فَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ - وَأَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ : فَإِنْ لَمْ أَعْلَمْ خَيْرًا ؟ قَالَ : " لَا تَقُلْ إِلَّا مَا تَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، لَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز جنازہ کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں ( اس دعا کی تعلیم دی تھی ) ” اے اللہ ! ہمارے زندہ لوگوں اور ہمارے مرحومین کی مغفرت کر دے ہمارے معاملات کو ٹھیک کر دے ہمارے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دے اے اللہ ! یہ تیرا بندہ فلاں بن فلاں ہے ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے ، اور تو اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ، تو ہماری اور اس کی مغفرت کر دے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : حالانکہ میں ان میں سب سے کمسن تھا کہ اگر مجھے بھلائی کا علم نہ ہو ؟ تو آپ نے فرمایا : تم صرف وہ بات کہو جو تم جانتے ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4166
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3265)»