مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ . باب: نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ قَالَ : هَلَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَحَضَرْنَا بَابَهُ فِي بَنِي سَلَمَةَ ، فَلَمَّا خَرَجَ سَرِيرُهُ مِنْ حُجْرَتِهِ إِذَا حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ بَيْنَ عَمُودَيِ السَّرِيرِ ، فَأَمَرَ بِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَيْنِ الْعَمُودَيْنِ ، فَتَأَبَّى عَلَيْهِمْ حَتَّى تَعَاطَوْهُ ، فَسَأَلَهُ بَنُو جَابِرٍ إِلَّا خَرَجَ ، فَخَرَجَ وَجَاءَ الْحَجَّاجُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ حَتَّى وُضِعَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْقَبْرِ فَإِذَا حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ قَدْ نَزَلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ الْحَجَّاجُ أَنْ يَخْرُجَ فَتَأَبَّى ، فَقَالَ بَنُو جَابِرٍ : بِاللَّهِ ، فَخَرَجَ فَاقْتَحَمَ الْحَجَّاجُ الْحُفْرَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الْحُوَيْرِثِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَغَيْرُهُ . ¤ابوحویرث بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا : بنو سلمہ کے محلے میں ہم ان کے دروازے کے پاس موجود تھے ، جب ان کے حجرے سے ان کی میت کی چارپائی نکلی تو حسن بن حسن چارپائی کے دو ستونوں کے درمیان تھے حجاج بن یوسف نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دو پایوں کے درمیان سے نکل جائیں تو انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ، لوگوں نے ان کے ساتھ زبردستی کرنی چاہی ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں نے ان سے درخواست کی ، تو وہ نکل گئے ، جب وہ نکلے تو حجاج آیا اور دو پایوں کے درمیان ٹھہر گیا اور اس وقت تک رہا جب تک ان کی میت کو رکھ نہیں دیا گیا اس نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر جب وہ قبر کے پاس آیا ، تو حسن بن حسن قبر میں اتر چکے تھے حجاج نے حکم دیا کہ وہ باہر آ جائیں انہوں نے یہ بات نہیں مانی ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں نے کہا: اللہ کا واسطہ ہے ، تو وہ باہر آ گئے ، پھر حجاج نے انہیں قبر میں اتارا ، یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابوحویرث نامی رادی کو ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام مالک اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔