مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النَّوْحِ . باب: نوحہ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعْتُ الْوَاعِيَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَانْظُرْ مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ مَاتَ ، قَالَ : " لَمْ يَمُتْ " . فَأَفَاقَ ، وَكَانَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَأُخْبِرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِيهِ فَتَلَقَّاهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُغْمِيَ عَلَيَّ فَصَاحَتِ النِّسَاءُ : وَاعَزَاءَاهْ ، وَاجَبَلَاهْ . فَقَالَ مَلَكٌ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَ رِجْلِي فَقَالَ : كَمَا تَقُولُ تَقُولُ ؟ قُلْتُ : لَا ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، ضَرَبَنِي بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَعْمَشُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْحَنَفِيُّ فِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا اسی دوران میں نے کسی رونے والی کی آواز سنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور جا کر دیکھو کہ کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ نہیں مرا ہے ، جب ان صاحب کو ہوش آیا جن پر پہلے بے ہوشی طاری تھی اور انہیں یہ بات بتائی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس آئے ہیں تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر بے ہوشی طاری ہوئی عورتوں نے چیخ کر کہنا شروع کیا ہائے زبردست آدمی ہائے پہاڑ تو ایک فرشتہ جس کے پاس گرز تھا اس نے اس گرز کو میری دونوں ٹانگوں کے درمیان رکھا اور بولا: جس طرح یہ عورت کہہ رہی ہے تم بھی اس طرح کہتے ہو ؟ میں نے کہا: جی نہیں اگر میں یہ کہہ دیتا جی ہاں تو اس نے مجھے ( گرز ) مار دینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اعمش نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے محمد بن جابر حنفی نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔