مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النَّوْحِ . باب: نوحہ کرنا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَادَ أَبَا سَلَمَةَ وَهُوَ وَجِعٌ ، فَسَمِعَ قَوْلَ أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَنَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدُّخُولِ حِينَ سَمِعَهَا تَبْكِيهِ بِكِتَابِ اللَّهِ تَقُولُ : ( وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ ) فَدَخَلَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَخْلَفَ اللَّهُ عَلَيْكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ " ، فَلَمَّا خَرَجَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ : رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ الدُّخُولَ لِأَنَّهُمْ يَنُوحُونَ ؟ قَالَ : " لَسْتُ أَدْخُلُ دَارًا فِيهَا نَوْحٌ وَلَا كَلْبٌ أَسْوَدُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کر رہے تھے انہیں تکلیف لاحق تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی آواز سنی جو رو رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رونے کی آواز سنی کہ وہ اللہ کی کتاب کی یہ آیت پڑھتے ہوئے رو رہی تھیں ۔ ” اور موت کی بیہوشی حق کے ساتھ آ گئی یہ وہ چیز ہے جس سے تم بھاگتے تھے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے پھر آپ اندر داخل ہوئے پھر آپ نے سلام کیا ، پھر آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ اللہ تعالیٰ تمہارا نگہبان ہو گا جب آپ واپس تشریف لے گئے تو آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اندر داخل ہونے کو ناپسند کیا کیونکہ وہ لوگ نوحہ کر رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایسے کسی گھر میں داخل نہیں ہوتا ، جس میں نوحہ ہو رہا ہو ، یا سیاہ کتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن نہیک ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : وہ غلطی کرتا ہے ۔