مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النَّوْحِ . باب: نوحہ کرنا
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ تَقُولُ : وَاجَبَلَاهْ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : مَا زِلْتِ مُؤْذِيَةً لِي مُنْذُ الْيَوْمِ ، قَالَتْ : لَقَدْ كَانَ يَعِزُّ عَلَيَّ أَنْ أُوذِيَكَ ! قَالَ : مَا زَالَ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ كُلَّمَا قُلْتِ : وَاكَذَا قَالَ : وَكَذَا أَنْتَ ؟ فَأَقُولُ : لَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْحَسَنُ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤حسن بصری بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن نے یہ کہنا شروع کر دیا : ہائے پہاڑ یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ کہا: جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے فرمایا : آج تم مجھے مسلسل اذیت پہنچا رہی ہو اس خاتون نے کہا: مجھ کو غم لاحق ہو ، اگر میں آپ کو اذیت پہنچاؤں تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک فرشتہ جو زبردست ڈانٹ پھٹک کرنے والا تھا جب بھی تم کہتی تھی یہ ایسا ہے ، تو وہ فرشتہ مسلسل یہ کہتا تھا کیا تم ایسے ہو ، تو میں کہتا تھا جی نہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ حسن بصری نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔