مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِرْجَاعِ وَمَا يُسْتَرْجَعُ عِنْدَهُ . باب: انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا اور کس صورت میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا جائے گا
حدیث نمبر: 3947
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْقَطَعَ شِسْعُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ " فَقَالَ [ لَهُ ] رَجُلٌ : هَذَا لَشِسْعٌ ! ؟ فَقَالَ " إِنَّهَا مُصِيبَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ نے «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یہ تسمے کے لئے ہے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ بھی ایک مصیبت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔