مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِرْجَاعِ وَمَا يُسْتَرْجَعُ عِنْدَهُ . باب: انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا اور کس صورت میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا جائے گا
حدیث نمبر: 3946
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ قَدُمَ عَهْدُهَا فَيُحْدِثُ لَهُ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَعْطَاهُ ثَوَابَهُ يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس بھی مسلمان مرد یا مسلمان عورت کو کوئی مصیبت لاحق ہو ، اور پھر وہ اس کو یاد کرے اگرچہ اس کا زمانہ قریب ہو ، اور پھر اس کے سامنے یہ بات آئے کہ وہ «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کی جگہ نئے سرے سے ثواب عطا کرتا ہے ، اور اسے وہ ثواب اس دن کے حساب سے عطا کرتا ہے ، جب اسے وہ مصیبت لاحق ہوئی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابومقدام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔