حدیث نمبر: 3948
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : انْقَطَعَ قِبَالُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَرْجَعَ فَقَالُوا : مُصِيبَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! فَقَالَ : " مَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِمَّا يَكْرَهُ فَهِيَ مُصِيبَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ نے «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مؤمن کو جو بھی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے ناپسند ہو تو وہ مصیبت ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3948
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف