مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِرْجَاعِ وَمَا يُسْتَرْجَعُ عِنْدَهُ . باب: انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا اور کس صورت میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا جائے گا
حدیث نمبر: 3948
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : انْقَطَعَ قِبَالُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَرْجَعَ فَقَالُوا : مُصِيبَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! فَقَالَ : " مَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِمَّا يَكْرَهُ فَهِيَ مُصِيبَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ نے «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مؤمن کو جو بھی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے ناپسند ہو تو وہ مصیبت ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔