حدیث نمبر: 3930
وَعَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَعُودُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبِينِهِ فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ " فَلَمْ يَحُرْ إِلَيْهِ شَيْئًا فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ عَنْكَ مَشْغُولٌ قَالَ : " خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ " فَخَرَجَ النَّاسُ مِنْ عِنْدِهِ وَتَرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَأَشَارَ الْمَرِيضُ أَيْ أَعِدْ يَدَكَ حَيْثُ كَانَتْ ، ثُمَّ نَادَى : " يَا فُلَانُ مَا تَجِدُ ؟ " قَالَ : أَجِدُ خَيْرًا وَقَدْ حَضَرَنِي اثْنَانِ أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّهُمَا أَقْرَبُ مِنْكَ ؟ " قَالَ : الْأَسْوَدُ قَالَ : " إِنَّ الْخَيْرَ قَلِيلٌ وَإِنَّ الشَّرَّ كَثِيرٌ " قَالَ : فَمَتِّعْنِي مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِدَعْوَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرِ الْكَثِيرَ وَأَنْمِ الْقَلِيلَ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَرَى ؟ " قَالَ : [ خَيْرًا ] بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي الْخَيْرَ يُنْمَى وَأَرَى الشَّرَّ يَضْمَحِلُّ وَقَدِ اسْتَأْخَرَ عَنِّي الْأَسْوَدُ قَالَ : " أَيُّ عَمَلِكَ كَانَ أَمْلَكَ بِكَ ؟ " قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي الْمَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْمَعْ يَا سَلْمَانُ هَلْ تُنْكِرُ مِنِّي شَيْئًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي - قَدْ رَأَيْتُكَ فِي مَوَاطِنَ مَا رَأَيْتُكُ عَلَى مِثْلِ حَالِكَ الْيَوْمَ ! قَالَ : " إِنِّي لِأَعْلَمُ مَا يَلْقَى ، مَا مِنْهُ عِرْقٌ إِلَّا وَهُوَ يَأْلَمُ الْمَوْتِ عَلَى حِدَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنا دست مبارک اس کی پیشانی پر رکھا آپ نے دریافت کیا : تم کیا محسوس کر رہے ہو ؟ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہیں دیا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی توجہ آپ کی طرف نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اور اس کو تنہا چھوڑ دو تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر باہر چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہیں رہنے دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا تو بیمار نے اشارہ کیا کہ آپ اپنا دست مبارک وہیں رکھ دیں جہاں پہلے موجود تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے فلاں تم کیا محسوس کر رہے ہو اس نے عرض کی : میں بھلائی محسوس کر رہا ہوں میرے پاس دو چیزیں آئی ہیں ان میں سے ایک سفید ہے ، اور دوسری سیاہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ان میں سے کون سی تمہارے زیادہ قریب ہے ؟ اس نے جواب دیا : سیاہ والی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا مطلب ہے بھلائی کم ہے ، اور برائی زیادہ ہے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے دعا سے نوازیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ ! زیادہ والی چیز ( یعنی گناہوں کی ) مغفرت کر دے اور تھوڑی والی چیز ( یعنی بھلائی ) کو بڑھا دے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ اس نے عرض کی : بھلائی ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں بھلائی بڑھ رہی ہے ، اور میں برائی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ مضمحل ہو رہی ہے ، اور سیاہ چیز مجھ سے پیچھے ہٹ رہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے عمل میں سے کون سا عمل تمہیں موزوں لگ رہا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں پانی پلایا کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سن لو کیا تمہیں میری طرف سے کوئی چیز مختلف محسوس ہوئی سیدنا سلمان نے عرض کی : جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ کو مختلف قسم کی صورت حال میں دیکھا ہے ، لیکن جس طرح کی صورت حال آج ہے اس طرح کبھی آپ کو نہیں دیکھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جس چیز کا سامنا کر رہا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں ہر ایک رگ موت کی تکلیف کو الگ سے محسوس کرتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار ، حديث سلمان ، 2197 ، المعجم الكبير للطبراني ، من اسمه سهل ، أبو عثمان النهدي ، أبو الأزهر ، 6059»