مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَوْتِ الْمُؤْمِنِ وَغَيْرِهِ . باب: مومن کی موت وغیرہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ إِذَا قُبِضَتْ تَلَقَّاهَا مِنْ أَهْلِ الرَّحْمَةِ مِنْ عِبَادِهِ كَمَا يَلْقَوْنَ الْبَشِيرَ مِنَ الدُّنْيَا فَيَقُولُونَ : أَنْظِرُوا صَاحِبَكُمْ يَسْتَرِيحُ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ ثُمَّ يَسْأَلُوهُ : مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ ؟ وَمَاذَا فَعَلَتْ فُلَانَةٌ ؟ هَلْ تَزَوَّجَتْ ؟ فَإِذَا سَأَلُوهُ عَنِ الرَّجُلِ قَدْ مَاتَ قَبْلَهُ فَيَقُولُ : هَيْهَاتَ قَدْ مَاتَ ذَلِكَ قَبْلِي ! ! فَيَقُولُونَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ فَبِئْسَتِ الْأُمُّ وَبِئْسَتِ الْمُرَبِّيَةُ ، وَإِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ [ مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ ] فَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَرِحُوا وَاسْتَبْشَرُوا وَقَالُوا : اللَّهُمَّ هَذَا فَضْلُكَ وَرَحْمَتُكَ فَأَتْمِمْ نِعْمَتَكَ عَلَيْهِ وَأَمِتْهُ عَلَيْهَا ، وَيَعْرِضُ عَلَيْهِمْ عَمَلَهُمُ الْمُسِيءَ فَيَقُولُونَ : اللَّهُمَّ أَلْهِمْهُ عَمَلًا صَالِحًا تَرْضَى بِهِ عَنْهُ وَتُقَرِّبُهُ إِلَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن کی جان جب قبض کی جاتی ہے ، تو رحمت والے فرشتے اسے یوں ملتے ہیں جس طرح دنیا میں کوئی خوشخبری سنانے والا ملتا ہے وہ کہتے ہیں : تم اپنے ساتھی کا جائزہ لو کہ اس نے راحت حاصل کر لی ہے اس سے پہلے وہ شدید مشکل میں تھا پھر وہ اس سے دریافت کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے فلاں کا کیا حال ہے فلاں کا کیا حال ہے کیا اس نے شادی کر لی ہے ، جب وہ اس سے کسی ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہیں جو پہلے مر چکا ہو تو وہ کہتا ہے ارے بھائی وہ تو مجھ سے پہلے ہی فوت ہو چکا ہے ، تو دوسرے لوگ کہتے ہیں : بے شک ہم اللہ تعالٰی کے مخصوص ہے ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے وہ اپنے ٹھکانے حاویہ ( یعنی جہنم ) کی طرف چلا گیا ہو گا ، اور وہ برا ٹھکانہ ہے ، اور بری تربیت کرنے والی ہے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) تمہارے اعمال اہل آخرت سے تعلق رکھنے والے تمہارے قریبی رشتہ داروں اور تعلق داروں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اگر وہ عمل بہتر ہو تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور خوشخبری حاصل کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! یہ تیرا فضل ہے ، اور تیری رحمت ہے ، تو اس پر اپنی نعمت کو مکمل کر دے اور اس نعمت پر اسے موت دینا اور برائی کرنے والے کا عمل بھی ان لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، تو وہ کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے نیک عمل کی ، توفیق دے جس کے ذریعے تو اس سے راضی ہو جائے اور تو اس کو اپنی بارگاہ میں مقرب کر لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔