حدیث نمبر: 3929
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا وَإِنَّ نَفْسَ الْكَافِرِ تَسِلُ كَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لِيَعْمَلُ الْخَطِيئَةَ فَيُشَدَّدُ بِهَا عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِيُكَفَّرَ بِهَا ، وَإِنَّ الْكَافِرَ لِيَعْمَلُ الْحَسَنَةَ فَيَسْهُلُ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِيُجْزَى بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کی جان پسینے میں سے نکلتی ہے ، اور کافر کی جان یوں نکلتی ہے ، جس طرح گدھے کی جان نکلتی ہے مؤمن نے گناہ کیا ہوا ہوتا ہے ، تو مرتے وقت اس پر سختی کی جاتی ہے تاکہ یہ چیز اس کا کفارہ بن جائے اور کافر نے اچھائی کی ہوئی ہوتی ہے ، تو مرتے وقت اس پر آسانی کی جاتی ہے ، تاکہ وہ اس اچھائی کا بدلہ بن جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3929
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف