مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَوْتِ الْمُؤْمِنِ وَغَيْرِهِ . باب: مومن کی موت وغیرہ کا بیان
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : وَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عِنْدَ رَأْسِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : " يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ارْفُقْ بِصَاحِبِي فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ " فَقَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : طِبْ نَفْسًا وَقَرَّ عَيْنًا وَاعْلَمْ أَنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ ، وَاعْلَمْ يَا مُحَمَّدُ أَنِّي لَأَقْبِضُ رُوحَ ابْنِ آدَمَ فَإِذَا صَرَخَ صَارِخٌ مِنْ أَهْلِهِ قُمْتُ فِي الدَّارِ وَمَعِي رُوحُهُ فَقُلْتُ : مَا هَذَا الصَّارِخُ ؟ وَاللَّهِ مَا ظَلَمْنَاهُ وَلَا سَبَقْنَا أَجَلَهُ وَلَا اسْتَعْجَلْنَا قَدَرَهُ وَمَا لَنَا فِي قَبْضِهِ مِنْ ذَنْبٍ ، فَإِنْ تَرْضَوْا بِمَا صَنَعَ اللَّهُ تُؤْجَرُوا وَإِنْ تَحْزَنُوا وَتَسْخَطُوا تَأْثَمُوا وَتُؤْزَرُوا ، مَا لَكُمَ عِنْدَنَا مِنْهُ عُتْبَى وَإِنَّ لَنَا عِنْدَكُمْ بَعْدَ عَوْدَةٍ وَعَوْدَةٍ فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِ - يَا مُحَمَّدُ - شَعْرٍ وَلَا مَدَرٍ ، بَرٍّ وَلَا فَاجِرٍ ، سَهْلٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا أَنَا أَتَصَفَّحُهُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ حَتَّى لَأَنَا أَعْرَفُ بِصَغِيرِهِمْ وَكَبِيرِهِمْ مِنْهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ ، وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ لَوْ أَرَدْتُ أَقْبِضُ رُوحَ بَعُوضَةٍ مَا قَدَرْتُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ أَذِنَ بِقَبْضِهَا . ¤ قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : بَلَغَنِي أَنَّهُ إِنَّمَا يَتَصَفَّحُهُمْ عِنْدَ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا نَظَرَ عِنْدَ الْمَوْتِ فَمَنْ كَانَ يُحَافِظُ عَلَى الصَّلَوَاتِ دَنَا مِنْهُ الْمَلَكُ وَطَرَدَ عَنْهُ الشَّيْطَانَ وَيُلَقِّنُهُ الْمَلَكُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَذَلِكَ الْحَالُ الْعَظِيمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَمْرٍ الْجُعْفِيُّ وَالْحَارِثُ بْنُ الْخَزْرَجِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : وَاعْلَمْ أَنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ . ¤حارث بن خزرج نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر ارشاد فرمایا : اے ملک الموت میرے ساتھی کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ یہ مؤمن ہے ، تو ملک الموت نے کہا: آپ اطمینان سے رہیں اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا رکھیں آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں اے سیدنا محمد آپ یہ بات جان لیں کہ جب میں کسی انسان کی روح قبض کرتا ہوں اور اس کے اہل خانہ میں سے کوئی چیخ کر روتا ہے ، تو میں دروازے میں کھڑا ہو جاتا ہوں ۔ میرے ساتھ اس شخص کی روح ہوتی ہے میں دریافت کرتا ہوں : یہ شخص کون ہے ؟ اللہ کی قسم ہم نے اس پر کوئی ظلم نہیں کیا ہم نے اس کے مخصوص وقت سے پہلے اس کی روح کو قبض نہیں کیا اس کی متعین مقدار سے جلدی نہیں کی ، تو اس کی روح قبض کرنے میں ہمارا کیا گناہ ہے اگر تم لوگ اس چیز سے راضی ہو جو اللہ تعالیٰ نے طے کیا ہے ، تو تمہیں اجر نصیب ہو گا ، اور اگر تم غمگین ہوتے ہو ، اور ناراض ہوتے ہو ، تو تم پر بوجھ آئے گا ہمیں اس حوالے سے کوئی عتاب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہم نے تو تمہارے پاس یکے بعد دیگرے آتے رہنا ہے ، تو تم احتیاط کرو احتیاط کرواے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ہر گھر خواہ وہ بالوں سے بنا ہوا ہو ، یا کچی مٹی سے بنا ہوا ہو نیک آدمی کا ہو ، یا گناہ گار کا ہو نرم جگہ پر ہو ، یا پہاڑ پر ہو میں ہر گھرانے میں روزانہ چکر لگاتا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے چھوٹے اور بڑوں کو خود ان سے بھی زیادہ بہتر طور پر جانتا ہوں اللہ کی قسم ! اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر میں کسی مکھی کی روح قبض کرنے کا ارادہ کروں تو میں اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔
جعفر بن محمد ( شاید اس سے مراد امام جعفر صادق ہیں : ) یہ فرماتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ملک الموت نمازوں کے اوقات کے وقت ان لوگوں کے گھروں میں آتا جاتا ہے ، اور جب وہ موت کے قریب کسی ایسے شخص کو پاتا ہے ، جو نمازیں باقاعدگی سے ادا کیا کرتا تھا ، تو ملک الموت اس کے پاس آ جاتا ہے ، اور شیطان اس شخص سے دور ہو جاتا ہے ملک الموت اسے« لا اله الا الله محمد رسول الله» پڑھنے کی تلقین کرتا ہے ، اور یہ بڑی بہترین حالت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شمر جعفی اور ایک راوی حارث بن خزرج ہے میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں امام بزار نے اس روایت میں سے ان الفاظ تک کا حصہ نقل کیا ہے : ” آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں“ ۔