مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَوْتِ الْمُؤْمِنِ وَغَيْرِهِ . باب: مومن کی موت وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 3927
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا ، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ " قِيلَ : وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ ؟ قَالَ : " مَوْتُ الْفَجْأَةِ " قَالَ : " وَرُوحُ الْكَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ أَشْدَاقِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مومن کی جان پسینے میں نکلتی ہے ، اور مجھے ایسی موت پسند نہیں ہے ، جو گدھے کی موت کی مانند ہو ، عرض کی گئی : گدھے کی موت کیا ہوتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچانک موت ، آپ نے فرمایا : کافر کی روح ، اُس کی باچھوں میں سے نکلتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسام بن مصک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔