مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَمَا تَحْصُلُ بِهِ الشَّهَادَةُ . باب: طاعون کا بیان اور اس کے ذریعے شہادت حاصل ہونا
وَعَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ : خَطَبَ مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ : إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ فَقَالَ مُعَاذٌ : سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ وَإِسَنَادُهُ مُتَّصِلٌ . ¤ابومنیب احدب بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطبہ دیتے ہوئے طاعون کا ذکر کیا ، اور ارشاد فرمایا : یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے ، اور تمہارے نبی کی دعا ہے ، اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کے انتقال کا طریقہ ہے اے اللہ ! معاذ کے گھر والوں کو اس رحمت میں سے ان کا حصہ نصیب فرما پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے نیچے اتر آئے آپ سیدنا عبدالرحمن بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ” یہ چیز حق ہے ، اور تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے ، تو تم شک کا شکار ہونے والوں میں سے ہرگز نہ ہو جانا “ ۔ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ( یعنی یہ آیت پڑھی ) ” عنقریب تم مجھے صبر کرنے والوں میں پاؤ گے ، اگر اللہ نے چاہا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں اور ان کی سند میں متصل ہے ۔