کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: طاعون کا بیان اور اس کے ذریعے شہادت حاصل ہونا
حدیث نمبر: 3853
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَانِي جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْحُمَّى وَالطَّاعُونِ فَأَمْسَكْتُ الْحُمَّى بِالْمَدِينَةِ وَأَرْسَلْتُ الطَّاعُونَ إِلَى الشَّامِ فَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِأُمَّتِي وَرَحْمَةٌ لَهُمْ رِجْسٌ عَلَى الْكَافِرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس بخار اور طاعون لے کے آئے ، تو میں نے بخار کو مدینہ کے لئے روک لیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیجوا دیا ، طاعون میری امت کے لئے شہادت ہو گا ، اور ان کے لئے رحمت ہو گا ، اور کافروں کے لئے عذاب ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3854
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْغَارِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ طَعْنًا وَطَاعُونًا " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ مَنَايَا أُمَّتِكَ فَهَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " ذَرْبٌ كَالدُّمَّلِ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ سَتَرَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں موجود تھا آپ نے دعا کی : اے اللہ ! طعن اور طاعون ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو مجھے تو پتہ ہے کہ آپ نے اپنی امت کے بارے میں دعا مانگی ہے طعن ( ہتھیار کے ذریعے زخمی ہونے ) کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ پیپ والے پھوڑے کی طرح کا ہوتا ہے ، اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی ، تو تم عنقریب اسے دیکھ لو گے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر حنفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3854
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3855
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ : أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ هَذَا الزَّجْرَ قَدْ وَقَعَ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَمْ يُصَدِّقْهُ بِالَّذِي قَالَ ، قَالَ : فَقَالَ : بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّهُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا وَأَهْلَهُ نَصِيبَهُمْ مِنْ رَحْمَتِكَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : فَعَرَفْتُ الشَّهَادَةَ وَعَرَفْتُ الرَّحْمَةَ وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ حَتَّى أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي إِذْ قَالَ فِي دُعَائِهِ : " فَحُمَّى إِذَا أَوْ طَاعُونًا " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ ؟ قَالَ : " وَسَمِعْتَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقُ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَأَبَى عَلَيَّ " - أَوْ قَالَ : " فَمُنِعْتُ ، فَقُلْتُ : حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا " يَعْنِي : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو قِلَابَةَ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ . ¤
محمد محی الدین
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : شام میں طاعون کی وباء پھیل گئی تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بیماری ہے ، جو واقع ہو گئی ہے ، تو تم اس کو چھوڑ کر مختلف گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاؤ ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو انہوں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے قول کی تصدیق نہیں کی اور یہ فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ شہادت ہے ، اور رحمت ہے ، اور تمہارے نبی کی دعا ہے اے اللہ ! تو معاذ اور اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت میں سے ان کا حصہ نصیب فرما ۔ ابوقلابہ کہتے ہیں : شہادت کا مجھے پتہ تھا ، رحمت ہونے کا مجھے پتہ تھا ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ تم لوگوں کے نبی کی دعا سے مراد کیا ہے ؟ یہاں تک کہ مجھے یہ بات بیان کی گئی کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کر رہے تھے ۔ آپ نے دعا کے دوران ارشاد فرمایا : یا یہاں بخار ہو ، یا طاعون ہو ایسا آپ نے تین مرتبہ کہا: جب صبح ہوئی تو آپ کے گھر والوں میں سے کسی نے آپ سے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے گزشتہ رات آپ کو ایک دعا کرتے ہوئے سنا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو سنا تھا انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے تو پروردگار نے یہ چیز مجھے عطا کر دی میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ وہ ان لوگوں پر ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو ان کے علاوہ ہو ، اور میں نے اس سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے پھریں تو پروردگار نے اسے قبول نہیں کیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے روک دیا گیا تو میں نے عرض کی : پھر یا تو بخار ہو ، یا طاعون ہو ، یا تو بخار ہو ، یا طاعون ہو یعنی تین مرتبہ ایسے کہا: ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ابوقلابہ نامی راوی نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3855
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 3856
وَعَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ : خَطَبَ مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ : إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ فَقَالَ مُعَاذٌ : سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ وَإِسَنَادُهُ مُتَّصِلٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومنیب احدب بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطبہ دیتے ہوئے طاعون کا ذکر کیا ، اور ارشاد فرمایا : یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے ، اور تمہارے نبی کی دعا ہے ، اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کے انتقال کا طریقہ ہے اے اللہ ! معاذ کے گھر والوں کو اس رحمت میں سے ان کا حصہ نصیب فرما پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے نیچے اتر آئے آپ سیدنا عبدالرحمن بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ” یہ چیز حق ہے ، اور تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے ، تو تم شک کا شکار ہونے والوں میں سے ہرگز نہ ہو جانا “ ۔ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ( یعنی یہ آیت پڑھی ) ” عنقریب تم مجھے صبر کرنے والوں میں پاؤ گے ، اگر اللہ نے چاہا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں اور ان کی سند میں متصل ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3857
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَتُهَاجِرُونَ إِلَى الشَّامِ فَيُفْتَحُ لَكُمْ وَيَكُونُ فِيكُمْ دَاءٌ كَالدُّمَّلِ أَوْ كَالْحُزَّةِ يَأْخُذُ بِمُرَاقِ الرَّجُلِ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَهُمْ وَيُزَكِّي بِهِ أَعْمَالَهُمْ " . ¤ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطِهِ هُوَ وَأَهْلَ بَيْتِهِ الْحَظَّ الْأَوْفَرَ مِنْهُ ، فَأَصَابَهُمُ الطَّاعُونُ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ فَطُعِنَ فِي إِصْبَعِهِ بِالسَّبَّابَةِ فَكَانَ يَقُولُ : مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرُ النَّعَمِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب تم لوگ شام کی سرزمین کی طرف ہجرت کر جاؤ گے وہ تمہارے لئے فتح کر دی جائے گی وہاں پھوڑئے ، یا حزة ( وہ درد جو دل یا جگر میں محسوس ہو ) کی مانند ایک بیماری ہو گی ، جو آدمی کے پیٹ کے نیچے والے حصے کو ( یا خون کی رگوں کو ) گرفت میں لے گی ، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے لوگوں کو شہادت نصیب کرے گا ، اور اس کے ذریعے ان کے اعمال کا تزکیہ کرے گا ( اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دعا کی : ) ” اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول کی زبانی یہ بات سنی ہے ، تو تو اس کو ( یعنی سیدنا معاذ کو ) اور اس کے اہل خانہ کو اس میں سے حظ وافر عطا فرما “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں کو طاعون نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا ان کی شہادت کی انگلی میں اس کا پھوڑا نمودار ہوا تھا ، تو وہ یہ کہتے تھے کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کے عوض میں مجھے سرخ اونٹ مل جائیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اسماعیل بن عبیداللہ نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3857
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 3858
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَنَاءَ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت طعن ( زخمی ہونے ) اور طاعون کے ذریعے فنا ہو گی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تمہارے دشمن جنوں کا وار ہے ، اور ( ان دونوں صورتوں میں سے ) ہر صورت میں شہادت نصیب ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے بعض رجال ” صیح “ کے رجال ہیں
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3858
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3859
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ قَيْسٍ أَخِي أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي قَتْلًا فِي سَبِيلِكَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن قیس رضی اللہ عنہ جو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یعنی آپ نے یہ دعا کی : ) ” اے اللہ ! تو میری امت کو اپنی راہ میں طعن اور طاعون کے ذریعے قتل ہونے کی صورت میں فنا کرنا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3859
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3860
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ فَقَالَ : إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَفِي هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ بْنَ حَسَنَةَ قَالَ : فَغَضِبَ فَجَاءَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُعَلِّقَ نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ فَقَالَ : صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ وَلَكِنَّهُ رَحْمَةٌ [ مِنْ رَ ] بِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : جب شام میں طاعون پھیل گیا تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : یہ طاعون ، گندگی ( یعنی بیماری ) ہے ، تو تم اسے چھوڑ کر مختلف علاقوں اور مختلف وادیوں میں بکھر جاؤ اس بات کی اطلاع سیدنا شرحبیل بن حسنہ کو ملی تو وہ غصے میں آ گئے ، تو وہ اپنے کپڑے کو کھینچتے ہوئے اور اپنے ہاتھ میں جوتے کو لٹکا کر آئے اور یہ بات بیان کی : میں اللہ کے رسول کے ساتھ رہا ہوں عمرو اپنے اہل خانہ کے گدھے سے زیادہ گمراہ ہے بلکہ یہ ( طاعون ) تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے ، اور تمہارے نبی کی دعا ہے ، اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی موت ( کی وجہ ) ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3860
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند الشاميين ، حديث شرحبيل بن حسنة عن النبى صلى الله عليه وسلم ، 17445 المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب معرفة الصحابة رضى الله عنهم ، ذكر مناقب شرحبيل بن حسنة رضى الله عنه، 5169 جامع معمر بن راشد ، باب الوباء والطاعون ، 770 المعجم الكبير للطبرانى ، من اسمه شرحبيل ، ما أسند شرحبيل ابن حسنة ، 7043 معجم الصحابة لابن قانع ، شرحبيل بن حسنة بن عبد المطاع الكندى ، 626 صحيح ابن حبان، كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا ، ذكر الإخبار بأن الوباء هو موت الصالحين قبلنا ، 3003»
حدیث نمبر: 3861
عَنْ أَبِي مُنِيبٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فِي طَاعُونٍ آخَرَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : هَذَا زَجْرٌ مِثْلُ السَّبِيلِ مَنْ يَنْكُبُهُ أَخْطَأَهُ وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبُهَا أَخْطَأَتْهُ وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد نے ایک روایت ابومنیب کے حوالے سے نقل کی ہے : یہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک اور طاعون کے درمیان لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : یہ سبیل کی مانند زجر ( بیماری ) ہے ، جسے یہ چبھتا ہے اسے خراب کر جاتا ہے ، اور آگ کی مانند ہے ، جسے وہ چبھتا ہے ، تو اسے خراب کر جاتا ہے ، اور جو ٹھہر جاتا ہے ، یہ اسے جلا دیتی ہے ، اور اذیت پہنچاتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3861
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3862
وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْرٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرًا فَقَالَ : صَدَقَ . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بَعْضَهُ وَأَسَانِيدُ أَحْمَدَ حِسَانٌ صِحَاحٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : یزید حمیر نے سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا : انہوں نے ٹھیک کہا: ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان میں سے بعض روایات نقل کی ہیں ۔ امام أحمد کی اسانید حسن اور صحیح ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3862
درجۂ حدیث محدثین: اسناد حسن اور صحیح ہیں۔
حدیث نمبر: 3863
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ بْنِ عَمِيرَةَ : أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ مُعَاذٍ مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثَ مَعَهُ فِي دَارِهِ وَفِي مَنْزِلِهِ فَأَصَابَهُمُ الطَّاعُونُ فَطُعِنَ مُعَاذٌ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ وَأَبُو مَالِكٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حِينَ حَسَّ بِالطَّاعُونِ فَرَّ وَفَرَقَ فَرَقًا شَدِيدًا وَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ تَفَرَّقُوا فِي هَذِهِ الشِّعَابِ فَقَدْ نَزَلَ بِكُمْ أَمْرٌ [ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ] لَا أَرَاهُ إِلَّا رِجْزٌ وَطَاعُونٌ فَقَالَ لَهُ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ : كَذَبْتَ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو : صَدَقْتَ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : كَذَبْتَ ، لَيْسَ بِالطَّاعُونِ وَلَا الرِّجْزِ وَلَكِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ ، اللَّهُمَّ فَآتِ آلَ مُعَاذٍ النَّصِيبَ الْأَوْفَرَ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ قَالَ : فَمَا أَمْسَى حَتَّى طُعِنَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُهُ وَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيْهِ الَّذِي كَانَ يُكَنَّى بِهِ فَرَجَعَ مُعَاذٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَوَجَدَهُ مَكْرُوبًا ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ كَيْفَ أَنْتَ ؟ فَاسْتَجَابَ لَهُ فَقَالَ : يَا أَبَتِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ فَقَالَ مُعَاذٌ : وَإِنَّا ( إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ) ، فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ وَدَفَنَهُ مِنَ الْغَدِ فَجَعَلَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٌ يُرْسِلُ الْحَارِثَ بْنَ عَمِيرَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ يَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ ؟ فَأَرَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ طَعْنَةً فِي كَفِّهِ فَبَكَى الْحَارِثُ بْنُ عَمِيرَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ وَفَرَقَ مِنْهَا حِينَ رَآهَا فَأَقْسَمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِاللَّهِ مَا يُحِبُّ أَنَّ لَهُ مَكَانَهَا حُمْرُ النَّعَمِ . ¤ فَقَالَ : فَرَجَعَ الْحَارِثُ إِلَى مُعَاذٍ فَوَجَدَهُ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَبَكَى الْحَارِثُ وَاسْتَبْكَى ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاذًا أَفَاقَ فَقَالَ : يَا ابْنَ الْحِمْيَرِيَّةِ لِمَ تَبْكِي عَلَيَّ ؟ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ فَقَالَ الْحَارِثُ : وَاللَّهِ مَا عَلَيْكَ أَبْكِي ! ! فَقَالَ مُعَاذٌ : فَعَلَى مَا تَبْكِي ؟ قَالَ : أَبْكِي عَلَى مَا فَاتَنِي مِنْكَ الْعَصْرُ مِنَ الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : أَجْلِسْنِي ، فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ : اسْمَعْ مِنِّي فَإِنِّي أُوصِيكَ بِوَصِيَّةٍ : إِنَّ الَّذِي تَبْكِي عَلَيَّ مِنْ غُدُوِّكَ وَرَوَاحِكَ فَإِنَّ الْعِلْمَ مَكَانُهُ بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ ، فَإِنْ أَعْيَا عَلَيْكَ تَفْسِيرُهُ فَاطْلُبْهُ بَعْدِي عِنْدَ ثَلَاثَةٍ : عُوَيْمِرُ أَبُو الدَّرْدَاءُ أَوْ عِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَوْ عِنْدَ ابْنِ أُمُّ عَبْدٍ ، وَأُحَذِّرُكَ زَلَّةَ الْعَالَمِ وَجِدَالَ الْمُنَافِقِ ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاذًا اشْتَدَّ بِهِ [ النَّزْعُ ] نَزْعُ الْمَوْتِ فَنَزَعَ نَزْعًا لَمْ يَنْزِعْهُ أَحَدٌ فَكَانَ كُلَّمَا أَفَاقَ مِنْ غَمْرَةٍ فَتَحَ طَرْفَهُ فَقَالَ : اخْنُقْنِي خَنْقَتَكَ فَوَعِزَّتِكَ [ إِنَّكَ ] لَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّكَ ، فَلَمَّا قَضَى نَحْبَهُ انْطَلَقَ الْحَارِثُ حَتَّى أَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ بِحِمْصَ فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ قَالَ الْحَارِثُ : أَخِي مُعَاذٌ أَوْصَانِي بِكَ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَابْنِ أُمِّ عَبْدٍ وَلَا أَرَانِي إِلَّا مُنْطَلِقًا إِلَى الْعِرَاقِ فَقَدِمَ الْكُوفَةَ فَجَعَلَ يَحْضُرُ مَجْلِسَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي الْمَجْلِسِ قَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : امْرُؤٌ مِنَ الشَّامِ ، قَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ : نِعْمَ الْحَيُّ أَهْلُ الشَّامِ لَوْلَا وَاحِدَةٌ ! قَالَ الْحَارِثُ : وَمَا تِلْكَ الْوَاحِدَةُ ؟ قَالَ : لَوْلَا أَنَّهُمْ يَشْهَدُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَاسْتَرْجَعَ الْحَارِثُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ : صَدَقَ مُعَاذٌ فِيمَا قَالَ لِي فَقَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ : مَا قَالُ لَكَ يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : حَذَّرَنِي زَلَّةَ الْعَالِمِ ، وَاللَّهِ مَا أَنْتَ - يَا ابْنَ مَسْعُودٍ - إِلَّا أَحَدُ رَجُلَيْنِ : إِمَّا رَجُلٌ أَصْبَحَ عَلَى يَقِينٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، أَوْ رَجُلٌ مُرْتَابٌ لَا تَدْرِي أَيْنَ مَنْزِلُكَ ؟ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : صَدَقَ أَخِي إِنَّهَا زَلَّةٌ فَلَا تُؤَاخِذْنِي بِهَا ، فَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِ الْحَارِثِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ الْحَارِثُ : لَا بُدَّ لِي أَنْ أُطَالِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ بِالْمَدَائِنِ فَانْطَلَقَ الْحَارِثُ حَتَّى قَدِمَ عَلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ بِالْمَدَائِنِ فَلَمَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ : مَكَانَكَ حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكَ ، قَالَ الْحَارِثُ : وَاللَّهِ مَا أَرَاكَ تَعْرِفُنِي يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : بَلَى عَرَفَتْ رُوحِي رُوحَكَ قَبْلَ أَنْ أَعْرِفَكَ إِنَّ الْأَرْوَاحَ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي غَيْرِ اللَّهِ اخْتَلَفَ ، فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الشَّامِ ، فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَتَعَارَفُونَ فِي اللَّهِ وَيَتَزَاوَرُونَ فِي اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَى أَحْمَدُ بَعْضَهُ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ طَرَفًا مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن غنم نے حارث بن عمیرہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن سے آئے اور ان کے محلے اور ان کے گھر میں ان کے ساتھ ٹھہرے رہے ان لوگوں کو طاعون لاحق ہو گیا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ ایک ہی دن میں طاعون کا شکار ہوئے جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو طاعون کا اندازہ ہوا تو انہوں نے راہ فرار اختیار کی اور وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہو گئے انہوں نے ارشاد فرمایا : مختلف گھاٹیوں میں بکھر جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تم پر نازل ہونے لگا ہے میرا خیال ہے یہ عذاب ( یا گندگی ) اور طاعون ہے ، تو سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو ، ہم اللہ کے رسول کے ساتھ رہے ہیں تم اپنے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہ ہو ، تو سیدنا عمرو نے کہا: آپ ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو یہ نہ تو طاعون ہے ، اور نہ ہی عذاب ہے ، بلکہ یہ تمہارے پروردگار کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا اور نیک لوگوں کی موت کی صورت ہے اے اللہ ! تو معاذ کے گھر والوں کو اس رحمت میں سے زیادہ حصہ عطا فرما ۔ راوی کہتے ہیں : شام ہونے تک سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن بھی طاعون کا شکار ہو گئے وہ صاحبزادے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ساری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب تھے ، اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ انہی کی نسبت سے کنیت اختیار کرتے تھے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ مسجد سے واپس تشریف لائے تو انہیں پریشانی کے عالم میں پایا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! تمہارا کیا حال ہے ؟ ان صاحبزادے کے حق میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی دعا مستجاب ہو گئی تھی ان صاحبزادے نے کہا: اے ابا جان یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے آنے والا حق ہے آپ نے شک کا شکار ہونے والوں میں سے ہرگز نہیں ہونا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو ہم صبر کرنے والوں میں سے ہوں گے وہ صاحبزادے اسی رات انتقال کر گئے تو اگلے دن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں دفن کر دیا پھر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حارث بن عمیرہ کو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ ان سے دریافت کریں کہ ان کا کیا حال ہے ، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حارث کو دکھایا کہ ان کی ہتھیلی میں طاعون کا نشان موجود ہے ، تو حارث بن عمیرہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رونے لگے جب انہوں نے یہ دیکھا تو وہ ان کے پاس سے اٹھ کر آ گئے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ انہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس زخم کی جگہ انہیں سرخ اونٹ مل جائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حارث بن عمیرہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے ، تو انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری ہو چکی تھی حارث رونے لگے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا: اے ابن حمیر یہ ! تم مجھ پر کیوں رو رہے ہو ؟ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں حارث نے کہا: اللہ کی قسم میں آپ پر نہیں رو رہا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر تم کس بات پر رو رہے ہو ؟ حارث نے کہا: میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ صبح و شام کا آپ کا تعلق مجھ سے چھوٹ جائے گا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے بٹھاؤ حارث نے انہیں بٹھا دیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری بات سنو میں تمہیں ایک وصیت کرنے لگا ہوں تم اس وجہ سے رو رہے ہو کہ صبح و شام کا ساتھ چھوٹ جائے گا علم کی جگہ مصحف کے دوالواح کے درمیان ہے ( یعنی قرآن مجید ہے ) اگر تم اس کی تفسیر میں تھک جاتے ہو ، تو میرے بعد علم کو تین آدمیوں کے پاس تلاش کرنا عویمر ابودرداء یا سلمان فارسی کے پاس ، یا ابن ام عبد کے پاس اور میں تمہیں عالم کی لغزش اور منافق کے ساتھ بحث کرنے سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر نزع کا عالم شدید ہو گیا جو موت کی نزع کا عالم تھا انہیں جب بھی نزع کی تکلیف لاحق ہوتی تھی اور جب بھی بے ہوشی میں افاقہ ہوتا تھا ، تو وہ اپنی پلک اٹھا کر یہ کہتے تھے یہ تیری طرف سے آنے والا دباؤ ہے ، جو مجھے لاحق ہوا ہے ، اور تیری عزت کی قسم ہے ، تو یہ بات جانتا ہے کہ میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں ۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو حارث وہاں سے روانہ ہوئے اور حمص میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے جتنا اللہ کو منظور تھا وہ اتنا عرصہ ان کے پاس ٹھہرے رہے پھر حارث نے کہا: میرے بھائی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کے بارے میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اور سیدنا ابن اُتم عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں وصیت کی تھی اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے عراق جانا چاہے پھر وہ کوفہ آ گئے اور سیدنا ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کی محفل میں صبح و شام حاضر ہونے لگے ایک مرتبہ وہ اسی محفل میں موجود تھے تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ انہوں نے بتایا : شام سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اہل شام اچھا گروہ ہے اگر ان میں ایک خامی نہ ہو حارث نے دریافت کیا : وہ ایک چیز کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ نے فرمایا : یہ نہ ہو کہ وہ لوگ اپنے بارے میں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ جنتی ہیں تو حارث نے دو یا شاید تین مرتبہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہا: اور پھر یہ کہا: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے جو بات کہی تھی وہ ٹھیک کہی تھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! انہوں نے تم سے کیا کہا: تھا ؟ حارث نے بتایا انہوں نے مجھے عالم کی لغزش سے بچنے کی تلقین کی تھی اور اے سیدنا ابن مسعود اللہ کی قسم ! آپ دو قسم کے افراد میں سے کوئی ایک ہیں ، یا تو آدمی یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے یقین پر صبح کرتا ہے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو ایسی صورت میں آپ جنتی ہوں گے یا پھر آدمی شک کا شکار ہوتا ہے ، تو آپ کو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کا ٹھکانہ کیا ہو گا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے بھائی نے ٹھیک کہا: تھا یہ لغزش تھی تماس کے حوالے سے میرا مواخذہ نہ کرو پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر اپنے گھر چلے گئے پھر جتنا اللہ کو منظور تھا حارث وہاں ٹھہرے رہے پھر حارث نے کہا: میرے لئے یہ ضروری ہے کہ میں ابوعبداللہ سلمان فارسی سے مدائن میں جا کے مل لوں ۔ پھر حارث وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ مدائن میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب انہوں نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو سلام کیا ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنی جگہ رہو میں نکل کر تمہارے پاس آتا ہوں حارث نے کہا: اللہ کی قسم ! اے ابوعبداللہ آپ کے بارے میں میری یہ رائے نہیں تھی کہ آپ مجھے پہچانتے ہوں گے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ۔ لیکن میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا تھا اس سے پہلے کہ میں تمہیں پہچانوں ، روحیں ( عالم ارواح میں ) گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں وہاں جو ایک دوسرے سے متعارف تھیں ( دنیا میں ) وہ ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور وہاں جو ایک دوسرے سے نا آشنا تھیں وہ دنیا میں لاتعلق رہتی ہیں پھر جتنا اللہ کو منظور تھا حارث ان کے ہاں ٹھہرے رہے پھر وہ شام واپس چلے گئے ۔ تو یہ وہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے کو پہچانتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے ملا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے بزار کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3864
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَنْزِلُونَ مَنْزِلًا يُقَالُ لَهُ الْجَابِيَةُ - أَوِ الْجُوَيْبِيَةُ - يُصِيبُكُمْ فِيهِ دَاءٌ مِثْلُ غُدَّتَيِ الْجَمَلِ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَكُمْ وَذَرَارِيَّكُمْ ، وَيُزَكِّي بِهِ أَعْمَالَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ایک جگہ پر پڑاؤ کرو گے جس کا نام جابیہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو یبیہ ہو گا وہاں تمہیں ایک بیماری لاحق ہو گی جو اونٹ کے غدہ کی مانند ہو گی اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہیں اور تمہارے بال بچوں کو شہادت نصیب کرے گا ، اور اس کی وجہ سے تمہارے اعمال کا تزکیہ کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن یحیی خشنی ہے ، جسے دحیم اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3864
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3865
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَنَاءُ أُمَّتِي فِي الطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " قُلْنَا : قَدْ عَرَفْنَا الطَّعْنَ فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ النَّصِيبِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ مَنَاكِيرُ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت طعن ( یعنی جنگ میں زخمی ہونے ) اور طاعون کے ذریعے فنا ہو گی“ ہم نے عرض کی : طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہارے دشمنوں جنات کا وار ہے ، اور ( طعن اور طاعون دونوں میں سے ) ہر ایک صورت میں شہادت نصیب ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عصمہ نصیبی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3865
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3866
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَأْتِي الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ بِالطَّاعُونِ فَيَقُولُ أَصْحَابُ الطَّاعُونِ : نَحْنُ شُهَدَاءُ فَيُقَالُ : انْظُرُوا فَإِنَّ جِرَاحَتَهُمْ كَجِرَاحِ الشُّهَدَاءِ تَسِيلُ دَمًا كَرِيحِ الْمِسْكِ فَهُمْ شُهَدَاءُ فَيَجِدُونَهُمْ كَذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَحَدِيثُهُ عَنِ أَهْلِ الشَّامِ مَقْبُولٌ وَهَذَا مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( قیامت کے دن ) شہداء اور طاعون کے نتیجے میں فوت ہونے والے لوگ آئیں گے تو طاعون کا شکار افراد یہ کہیں گے کہ ہم بھی شہید ہیں تو یہ کہا: جائے گا ۔ تم اس بات کا جائزہ لو اگر تو ان کے زخم شہداء کے زخم کی مانند ہیں کہ ان میں سے مشک کی خوشبو کی طرح کا خون نکلتا ہے ، تو پھر یہ شہداء شمار ہوں گے تو وہ ( فرشتے ) ان لوگوں کو ایسا ہی پائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اہل شام سے اس کی نقل کردہ روایت مقبول ہے ، اور یہ ان روایات میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3866
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن