مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَمَا تَحْصُلُ بِهِ الشَّهَادَةُ . باب: طاعون کا بیان اور اس کے ذریعے شہادت حاصل ہونا
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ : أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ هَذَا الزَّجْرَ قَدْ وَقَعَ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَمْ يُصَدِّقْهُ بِالَّذِي قَالَ ، قَالَ : فَقَالَ : بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّهُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا وَأَهْلَهُ نَصِيبَهُمْ مِنْ رَحْمَتِكَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : فَعَرَفْتُ الشَّهَادَةَ وَعَرَفْتُ الرَّحْمَةَ وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ حَتَّى أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي إِذْ قَالَ فِي دُعَائِهِ : " فَحُمَّى إِذَا أَوْ طَاعُونًا " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ ؟ قَالَ : " وَسَمِعْتَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقُ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَأَبَى عَلَيَّ " - أَوْ قَالَ : " فَمُنِعْتُ ، فَقُلْتُ : حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا " يَعْنِي : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو قِلَابَةَ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ . ¤ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : شام میں طاعون کی وباء پھیل گئی تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بیماری ہے ، جو واقع ہو گئی ہے ، تو تم اس کو چھوڑ کر مختلف گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاؤ ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو انہوں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے قول کی تصدیق نہیں کی اور یہ فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ شہادت ہے ، اور رحمت ہے ، اور تمہارے نبی کی دعا ہے اے اللہ ! تو معاذ اور اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت میں سے ان کا حصہ نصیب فرما ۔ ابوقلابہ کہتے ہیں : شہادت کا مجھے پتہ تھا ، رحمت ہونے کا مجھے پتہ تھا ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ تم لوگوں کے نبی کی دعا سے مراد کیا ہے ؟ یہاں تک کہ مجھے یہ بات بیان کی گئی کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کر رہے تھے ۔ آپ نے دعا کے دوران ارشاد فرمایا : یا یہاں بخار ہو ، یا طاعون ہو ایسا آپ نے تین مرتبہ کہا: جب صبح ہوئی تو آپ کے گھر والوں میں سے کسی نے آپ سے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے گزشتہ رات آپ کو ایک دعا کرتے ہوئے سنا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو سنا تھا انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے تو پروردگار نے یہ چیز مجھے عطا کر دی میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ وہ ان لوگوں پر ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو ان کے علاوہ ہو ، اور میں نے اس سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے پھریں تو پروردگار نے اسے قبول نہیں کیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے روک دیا گیا تو میں نے عرض کی : پھر یا تو بخار ہو ، یا طاعون ہو ، یا تو بخار ہو ، یا طاعون ہو یعنی تین مرتبہ ایسے کہا: ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ابوقلابہ نامی راوی نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔