حدیث نمبر: 3854
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْغَارِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ طَعْنًا وَطَاعُونًا " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ مَنَايَا أُمَّتِكَ فَهَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " ذَرْبٌ كَالدُّمَّلِ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ سَتَرَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں موجود تھا آپ نے دعا کی : اے اللہ ! طعن اور طاعون ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو مجھے تو پتہ ہے کہ آپ نے اپنی امت کے بارے میں دعا مانگی ہے طعن ( ہتھیار کے ذریعے زخمی ہونے ) کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ پیپ والے پھوڑے کی طرح کا ہوتا ہے ، اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی ، تو تم عنقریب اسے دیکھ لو گے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر حنفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3854
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف