مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحُمَّى . باب: بخار کا بیان
وَعَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ قَالَتْ : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ أَعَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا قَالَتْ : فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَنْتِ ؟ " قَالَتْ : " أُمُّ مِلْدَمٍ " قَالَ : " لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا أَتَذْهَبِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ " قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : " فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی کنیز ام طارق بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے آپ نے پھر آنے کی اجازت طلب کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اجازت طلب کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے ام طارق بیان کرتی ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ یہ عرض کروں کہ ہم نے آپ اجازت اس لئے پیش نہیں کی تھی کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ ہمیں مزید عطا کرتے رہیں ( یعنی زیادہ السلام علیکم کہتے رہیں ) ام طارق بیان کرتی ہیں : میں نے دروازے پر کسی کی آواز سنی جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا ، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ؟ اس نے عرض کی : ام ملد ( یعنی بخار ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں نہ خوش آمدید ہے ، اور نہ اہلا و سہلا ہے کیا تم اہل قباء کی طرف چلے جاؤ گے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم ان کی طرف چلے جاؤ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔