مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحُمَّى . باب: بخار کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " قَالَتْ : أُمُّ مِلْدَمٍ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ : " مَا شِئْتُمْ ؟ إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا ؟ " قَالُوا : وَتَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قَالُوا : فَدَعْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بخار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ہو اس نے عرض کی : ام ملدم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اہل قباء کی طرف چلا جائے تو جو اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا ان لوگوں کو بخار کے حوالے سے سامنا کرنا پڑا پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے بخار کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کیا چاہتے ہو اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں وہ اس کو تم سے دور کر دے گا ، اور اگر تم چاہو تو یہ تمہارے لئے طہارت کے حصول ( یعنی گناہوں سے پاک ہونے ) کا باعث بن جائے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ایسا کر لیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ ان لوگوں نے عرض کی : پھر آپ اسے رہنے دیں ( تاکہ یہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جائے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔