مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحُمَّى . باب: بخار کا بیان
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا : " مَنْ أَنْتِ ؟ " فَقَالَتْ : أَنَا الْحُمَّى أَبْرِي اللَّحْمَ وَأَمُصُّ الدَّمَ قَالَ : " اذْهَبِي إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ " فَأَتَتْهُمْ فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ اصْفَرَّتْ وُجُوهُهُمْ فَشَكَوُا الْحُمَّى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا شِئْتُمْ ؟ إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَدَفَعَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُمُوهَا وَأَسْقَطَتْ بَقِيَّةَ ذُنُوبِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى فَدَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بخار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں بخار ہوں ، میں گوشت کو کم ( یا کمزور ) کر دیتا ہوں اور خون کو چوس لیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اہل قباء کی طرف چلے جاؤ وہ بخار ان لوگوں کے پاس چلا گیا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے چہرے زرد ہو چکے تھے ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بخار کی شکایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو تم چاہو ( ویسا ہو گا ) اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں وہ اس کو تم سے دور کر دے گا ، اور اگر تم چاہو تو تم اسے رہنے دو یہ تمہارے بقایا گناہوں کو ختم کر دے گا ، تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ اسے رہنے دیں یا رسول اللہ ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔