مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ كَفَّارَةِ سَيِّئَاتِ الْمَرِيضِ وَمَا لَهُ مِنَ الْأَجْرِ . باب: بیمار کی برائیوں کا کفارہ اور اسے کتنا اجر نصیب ہوتا ہے ؟
وَعَنْ أَبِي زُرْعَةَ الْبُسْتَانِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي وَمَعَنَا النَّاسُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ نَعُودُهُ وَكَانَ بِبَيْتٍ ضَرَبْنَ فِي جِدَارِهِ ، مُوَلِّيًا وَجْهَهُ إِلَى الْحَائِطِ وَوَجَدْنَا امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهَا الْقَوْمُ : كَيْفَ بَاتَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ؟ فَقَالَتْ : بَاتَ بِأَجْرٍ ، فَحَرَّفَ وَجْهَهُ إِلَيْنَا وَقَالَ : لَيْسَ الْقَوْلُ مَا قَالَتْ ! ! فَوَجَمَ الْقَوْمُ لِذَلِكَ فَقَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي لِمَ قُلْتُ هَذَا ؟ قَالُوا : وَلِمَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُؤْمِنُ إِذَا مَرِضَ لَمْ يُؤْجَرْ فِي مَرَضِهِ وَلَكِنْ يُكَفَّرُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوزرعہ بستانی بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ اور دیگر کچھ لوگوں کے ساتھ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا وہ اس وقت ایک ایسے گھر میں موجود تھے ، جس کی دیواریں پرانی ( یا کمزور ) ہو چکی تھیں ، اور ان کا رخ دیوار کی طرف تھا ہم نے ان کی اہلیہ کو ان کے سرہانے پایا لوگوں نے اس خاتون سے دریافت کیا : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کیسے رات بسر کی ؟ تو اس خاتون نے جواب دیا : انہوں نے اجر کے ہمراہ رات بسر کی ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اپنا چہرہ ہماری طرف کیا ، اور پھر فرمایا حقیقت وہ نہیں ہے ، جو اس عورت نے بیان کی ہے ۔ لوگ اس بات پر حیران ہوئے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے کہ میں نے یہ بات کیوں کہی ہے ؟ لوگوں نے کہا: آپ نے یہ بات کیوں کہی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مومن جب بیمار ہوتا ہے ، تو اسے بیماری کی وجہ سے اجر نہیں دیا جاتا بلکہ اس سے ( گناہوں کو ) دور کر دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر بن ابوالقاسم ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔