مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ كَفَّارَةِ سَيِّئَاتِ الْمَرِيضِ وَمَا لَهُ مِنَ الْأَجْرِ . باب: بیمار کی برائیوں کا کفارہ اور اسے کتنا اجر نصیب ہوتا ہے ؟
عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - نَعُودُهُ مِنْ شَكْوَى أَصَابَهُ وَامْرَأَتُهُ نَحِيفَةٌ قَاعِدَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ قُلْتُ : كَيْفَ بَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ ؟ قَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدْ بَاتَ بِأَجْرٍ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَا بِتُّ بِأَجْرٍ وَكَانَ مُقْبِلًا بِوَجْهِهِ عَلَى الْحَائِطِ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ وَقَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا قُلْتُ ؟ قَالُوا : مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلَكَ عَنْهُ ! ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبِسَبْعِمِائَةٍ ، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ [ أ ] وَعَادَ مَرِيضًا أَوْ مَازَ أَذًى ، فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا ، وَمَنِ ابْتَلَاهُ [ اللَّهُ ] فِي جَسَدِهِ فَهُوَ لَهُ حِطَّةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَسَارُ بْنُ أَبِي سَيْفٍ وَلَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَحَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤عیاض بن غطیف بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی بیماری کی عیادت کے سلسلے میں حاضر ہوئے جو ان کو لاحق ہوئی تھی ان کی اہلیہ جو ایک کمزور خاتون تھیں جو ان کے سرہانے کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں میں نے اُن سے دریافت کیا : سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کیا حال ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : اللہ کی قسم انہوں نے اجر کے ہمراہ رات بسر کی ہے ( یعنی رات بھر تکلیف کا شکار رہے ہیں ) تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اجر کے ہمراہ رات بسر نہیں کی ہے پہلے ان کا رخ دیوار کی طرف تھا پھر انہوں نے اپنا رخ لوگوں کی طرف کر لیا اور ارشاد فرمایا : میں نے جو کہا: ہے تم اس کے بارے میں دریافت نہیں کرو گے ؟ لوگوں نے کہا: آپ نے جو کچھ کہا: ہے وہ ہمیں اچھا نہیں لگا کہ ہم اس کے بارے میں دریافت کرتے تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک اضافی چیز خرچ کرتا ہے ، تو اس کا سات سو گنا اجر و ثواب ہوتا ہے ، اور جو شخص اپنی جان پر یا اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے ، یا بیمار کی عیادت کرتا ہے ، یا کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرتا ہے ، تو ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے ، اور روزہ ڈھال ہے ، جب تک آدمی اسے توڑ نہ دے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ اس کے جسم کے حوالے سے کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ، تو یہ چیز اس کے لئے اس کے گناہوں کے کفارہ کا سبب بنتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشار بن ابوسیف ہے میں نے کسی کو اس کو ” ثقہ “ قرار دیتے ہوئے یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔