مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ . باب: بیمار کی عیادت کرنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ : " كَفَارَّةٌ وَطَهُورٌ " فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ شُرَحْبِيلَ فِي بَابِ فِيمَنْ صَبَرَ عَلَى الْحُمَّى وَاحْتَسَبَ أَبْيَنُ مِنْ هَذَا . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کی عیادت کرنے کے لئے اس کے پاس تشریف لے گئے وہ بخار کی حالت میں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یہ بیماری ) کفارے اور پاکیزگی کے حصول کا باعث ہو گی تو اس دیہاتی نے کہا: جی نہیں بلکہ یہ ایک بخار ہے ، جو ایک بوڑھے آدمی پر جوش مار رہا ہے ، اور اسے قبر تک پہنچا کے دم لے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ گئے اور آپ نے اسے ( اس کے حال پر ) چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر سیدنا شرحبیل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث آئے گی جو اس باب میں آئے گی کہ جو شخص بخار میں صبر سے کام لیتا ہے ، اور ثواب کی امید رکھتا ہے اس میں
یہ روایت زیادہ واضح طور پر آئے گی ۔