مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ . باب: بیمار کی عیادت کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا : مَنْ مَشَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ أَظَلَّهُ اللَّهُ بِخَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَدْعُونَ لَهُ ، وَلَمْ يَزَلْ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَفْرَغَ ، فَإِذَا فَرَغَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَجَّةً وَعُمْرَةً ، وَمِنْ عَادَ مَرِيضًا أَظَلَّهُ اللَّهُ بِخَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَرْفَعُ قَدَمًا إِلَّا كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ وَلَا يَضَعُ قَدَمًا إِلَّا حُطَّتْ عَنْهُ سَيِّئَةٌ وَرْفُعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ حَتَّى يَقْعُدَ مَقْعَدَهُ فَإِذَا قَعَدَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ إِذَا أَقْبَلَ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى مَنْزِلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ پچھتر ہزار فرشتوں کے ذریعے اس پر سایہ کرتا ہے ، جو اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور ایسا شخص مسلسل رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، جب تک وہ اس کام سے فارغ نہیں ہو جاتا جب وہ فارغ ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے حج اور عمرے کا ثواب عطا فرماتا ہے ، اور جو شخص بیمار کی عیادت کے لئے جاتا ہے اللہ تعالیٰ پچھتر ہزار فرشتوں کے ذریعے اس پر سایہ کر دیتا ہے وہ شخص جو بھی قدم اٹھاتا ہے ، تو فرشتے اس کے لئے نیکی کو نوٹ کرتے ہیں اور وہ جو بھی قدم رکھتا ہے ، تو اس کے کسی گناہ کو اس سے دور کر دیا جاتا ہے ، اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص بیٹھنے کی جگہ پر جا کر بیٹھ جاتا ہے ، جب وہ بیٹھ جاتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ، تو وہ شخص مسلسل اسی حالت میں رہتا ہے ، جب تک وہ واپس اس جگہ نہیں آ جاتا جو اس کی رہائش گاہ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ اشجعی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔