مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ . باب: بیمار کی عیادت کرنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ بِهِ وَجَعٌ ، وَأَنَا مَعَهُ فَقَبَضَ عَلَى يَدِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ وَكَانَ يَرَى ذَلِكَ مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَالَ : نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ لِيَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحاب میں ایک صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جنہیں کوئی بیماری لاحق تھی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ کو مٹھی میں لیا اور ان کا ہاتھ اُن کی پیشانی پر رکھا ( یا اپنا دست ان کی پیشانی پر رکھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ یہ چیز بیمار کی عیادت کا حصہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ میری آگ ہے ، جو میں اپنے مؤمن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت میں جہنم کی جگہ یہ اس کا حصہ ہو جائے “ ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن تمیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔