مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ سُجُودِ الشُّكْرِ . باب: سجود شکر کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : جِئْتُ أَزُورُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ لِعَائِشَةَ : " نَاوِلِينِي رِدَائِي " فَخَرَجَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُهُمْ فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ حَتَّى قَضَى الْمُذَكِّرُ تَذْكِرَتَهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى إِذَا جَاءَ مَنْ كَانَ عَلَى قَدْرِ مِيلَيْنِ وَتَسَامَعَ النَّاسُ سُجُودَهُ فَعَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى أَهْلِهَا احْضُرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقَدْ رَأَيْتُ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلْتَ السُّجُودَ ؟ فَقَالَ : " سَجَدْتُ لِرَبِّي شُكْرًا فِيمَا أَعْطَانِي مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمَّتُكَ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ فَاسْتَكْثِرْ لَهُمْ فَقَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ عُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدِ اسْتَوْهَبْتَ أُمَّتَكَ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ قُلْتُ : وَلَهُ طُرُقٌ تَأْتِي فِي الْبَعْثِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے کے لئے آیا تو اس وقت آپ کی طرف وحی نازل ہو رہی تھی جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان سے فرمایا کہ مجھے میری چادر پکڑاؤ پھر آپ مسجد میں چلے گئے وہاں کچھ لوگ موجود تھے ان کے علاوہ مسجد میں اور کوئی نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے یہاں تک کہ بیان کرنے والے نے اپنی بات ختم کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت تنزیل السجدہ کی تلاوت کی اور طویل سجدہ کیا جو اتنا طویل تھا کہ کوئی شخص ( اتنی دیر میں ) دو میل کا فاصلہ طے کر سکتا تھا لوگوں نے اس سجدے کے بارے میں لوگوں کو بتایا تو لوگ اتنے زیادہ اکھٹے ہو گئے کہ مسجد بھر گئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جائیں کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک ایسی چیز دیکھی ہے ، جو پہلے میں نے نہیں دیکھی تھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے سجدے کو اتنا طول دیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھے جو چیز عطا کی ہے میں نے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ کیا تھا اس نے یہ چیز عطا کی ہے کہ میری امت کے ستر ہزار افراد کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ سیدنا ابوبکر نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ کی امت کثرت والی ہے ، اور زیادہ پاکیزہ ہے آپ ان کے لئے مزید کثرت کی دعا کرتے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو مرتبہ یا تین مرتبہ ( میں نے مزید کثرت طلب کی تھی ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کی امت آپ کو ہبہ کر دی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے میں یہ کہتا ہوں ، اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔