مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ سُجُودِ الشُّكْرِ . باب: سجود شکر کا بیان
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ فَسَجَدَ سَجْدَةً ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا قَالَ : " تَدْرِي لِمَ ذَاكَ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَأَعَادَهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَقَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ مَا كَتَبَ لِي رَبِّي وَأَتَانِي رَبِّي فَقَالَ لِي فِي آخِرِهَا : مَا أَفْعَلُ بِأُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ : أَيْ رَبِّ أَنْتَ أَعْلَمُ فَأَعَادَهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَقَالَ لِي فِي آخِرِهَا : مَا أَفْعَلُ بِأُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ يَا رَبِّ قَالَ : إِنِّي لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ ، فَسَجَدْتُ لِرَبِّي وَرَبِّي شَاكِرٌ يُحِبُّ الشَّاكِرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ عُثْمَانَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذٍ وَلَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا فَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ وَهُوَ مِنْ طَرِيقِ بَقِيَّةَ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ۔ آپ مسلسل قیام کی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی تو آپ سجدے میں چلے گئے میں نے یہ گمان کیا کہ شاید سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا : اے معاذ کیا تم نے دیکھا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اتنا طویل سجدہ کیا کہ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس کی ( یعنی سجدے کو طویل کرنے کی ) وجہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے وہ نماز ادا کی جو اللہ تعالیٰ نے میرے نصیب میں لکھی تھی پھر میرا پروردگار میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے فرمایا : میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو زیادہ بہتر جانتا ہے پروردگار نے تین یا چار مرتبہ یہ بات میرے ساتھ کی سب سے آخر میں مجھ سے یہ بات کی کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اے پروردگار تو زیادہ بہتر جانتا ہے ، تو پروردگار نے فرمایا : تمہاری امت کے بارے میں ، میں تمہیں غمگین نہیں کروں گا ، تو میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدے میں چلا گیا میرا پروردگار شکر قبول کرنے والا ہے ، اور شکر کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں حجاج بن عثمان سکسکی کے حوالے سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ تبع تابعین میں کیا ہے
یہ روایت بقیہ کے حوالے سے منقول ہے ، اور وہ عنعنہ کے ساتھ اس کو نقل کرتے ہیں ۔